جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کیا چاہتا تھا؟ ملائیشیا کے سابق اٹارنی جنرل کے ذاکر نائیک سے متعلق انکشافات

datetime 31  جنوری‬‮  2021 |

کوالا لمپور(این این آئی) ملائیشیا کے سابق اٹارنی جنرل ٹامی تھامس نے اپنی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب میں ڈاکٹر ذاکر نائیک سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ملائیشیا کے ایک اخبار کے مطابق سابق اٹارنی جنرل ٹامی تھامس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ذاکر ناک کے نظریات متنازع تھے تاہم اس کے باوجود انہیں ملائیشیا میں

مستقل رہائش کی اجازت دی گئی جب کہ وہ بھارت واپس جا کر خود پر قائم فوج داری مقدمات، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ جیسے الزامات کا جواب دینا چاہتے تھے۔تھامس کا کہنا ہے کہ 2018 سے 2020 تک جب وہ اٹارنی جنرل تھے اس دوران بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ اگر ملائیشیا ذاکر نائیک کو بھارت کے حوالے کرنے کے بجائے صرف انہیں ملک سے نکال دے تو بھارتی حکومت کے لیے یہ اقدام ہی کافی ہوگا۔سابق اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ بھارت صرف چاہتا تھا کہ ہم ذاکر نائیک کو ملک بدرکر دیں اور اس کے بعد وہ جہاں چاہیں جائیں اس سے ملائیشیا کا کوئی سروکار نہ ہو۔ ان کا اصرار تھا کہ صرف اس اقدام سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں آنے والی کشیدگی کم ہوجائے گی۔اپنی یادداشت میں تھامس نے لکھا کہ انہوں نے سب سے پہلے مقامی پولیس چیف سے اس بارے میں مشورہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ذاکر نائیک کو ملک بدر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کو بھارتی ہائی کمیشن کا پیغام پہنچایا۔تھامس کا کہنا ہے کہ وہ دو بار ذاکر نائیک کا معاملہ مہاتیر محمد کے پاس لے کر گئے اور ہر بار انہوں نے یہی کہا کہ کوئی تیسرا ملک ذاکر نائیک کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بعد میں انہوں نے یہ معاملہ ایک اور سینیئر افسر کے سامنے

اٹھایا تو وہاں  بھی انہیں یہی بتایا گیا کہ بنگلادیش، ایران، پاکستان، قطر اور سعودی عرب میں سے کوئی بھی ملک ذاکر نائیک کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ٹامی تھامسن نے کتاب میں وزیر اعظم مہاتیر کی اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ذاکر نائیک کو ملک میں رکھنا ان کی مجبوری بن چکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…