جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی خاتون ڈاکٹرنے اسلامی دنیا کی پہلی ویکسین تیار کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا

datetime 29  جنوری‬‮  2021 |

جدہ( آن لائن )اس وقت دنیا بھر میں چند ایک ممالک ہی ایسے ہیں جنہوں نے اپنی ویکسین تیار کر لی ہے اور انہیں کامیاب تجربات کے بعد دنیا بھر میں متعارف بھی کرایا گیاہے۔ سعودیہ اسلامی دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے ، جس نے اپنی ویکسین تیار کی ہے۔ یہ ویکسین مکمل طور پر مملکت میں تیار کی گئی، جس میں کسی غیر ملکی ماہر کی مدد نہیں لی گئی۔اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسلامی دنیا کی

پہلی کورونا ویکسین تیار کرنے کا اعزاز کسی مرد ڈاکٹر کے نہیں، بلکہ سعودی خاتون ڈاکٹر کے حصے میں آیا ہے۔ یہ ویکسین امام عبدالرحمن بن فیصل یونیورسٹی کے میڈیل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹر ایمان المنصور کی زیر قیادت ریسرچرز کی ایک ٹیم نے تیار کی ہے۔ لیڈی ڈاکٹر ایمان المنصور نے امریکا کی میسا چوسٹیس یونیورسٹی سے بائیومیڈیکل انجینئرنگ اینڈ بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔جنہوں نے پلازمڈ (پی) اور ڈی این اے کے طریقہ کار کے تحت سعودی ویکسین تیار کی ہے۔ڈاکٹر ایمان المنصور نے پہلی بار ملکی سطح پر تیار ہونے والی ویکسین سعودی حکومت کو فراہم کر دی ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ایمان نے بتایا کہ سعودی ویکسین فائزر اور موڈرنا ویکسین کے مقابلے میں اس لیے بہترین ہے کہ یہ زیادہ درجہ حرارت پر بھی خراب نہیں ہوتی۔اس لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی اور ذخیرہ کرنے پر ویکسین خراب ہونے کے امکانات کم ہیں۔ سعودی ویکسین جسم کے اندرونی خلیوں کو طاقت بھی دیتی ہے اور قوت مدافعت بھی پیدا کرتی ہے۔ دیگر ویکسینز کی دو خوراکیں لینی پڑتی ہیں تاہم سعودی ویکسین کی تین خوراکیں لینے سے جسم میں اینٹی باڈیز زیادہ موثر طریقے سے بن پاتی ہیں ۔ ڈاکٹر ایمان نے بتایا کہ اس ویکسین کے اثرات جانچنے کے لیے جلد کلینیکل ٹرائلز شروع ہو جائیں گے۔یونیورسٹی کے ٹویٹر اکاونٹ پر بتایا گیا کہ کئی ہفتوں سے سعودی ماہرین کی ایک ٹیم ڈاکٹر ایمان المنصور کی قیادت میں ملکی سطح پر ویکسین تیار کرنے کے لیے تجربات کر رہی تھی۔جن میں بالآخر کامیابی نصیب ہو گئی ہے۔ ویکسین تیار کرنے والی ٹیم کے سربراہ نے بتایا کہ سعودی کورونا ویکسین ریسرچ کی تیاری کے مراحل کی تفصیلات معروف بین الاقوامی میگزین Pharmaceutical نے شائع کی ہے۔امام عبدالرحمن یونیورسٹی کی جانب سے سعودی ویکسین پروجیکٹ کی فنڈنگ اور سرپرستی پر وزارت صحت کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…