جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اب مسلمان خانہ کعبہ جائیں گے تو انہیں مطاف کعبہ میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی گی 

datetime 29  جنوری‬‮  2021 |

مکہ مکرمہ( آن لائن )مسجد الحرام میں طواف کے صحن کا پرانا سنگ مرمر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کی جگہ زیادہ ٹھنڈا اور شاندار سنگ مرمر لگا دیا گیا ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق حرمین شریفین کے انتظامی امور کے ذمہ دار ادارے’حرمین جنرل پریذیڈینسی’ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مسجد حرام اور مطاف کے 150 مربع میٹرصحن میں نصب سنگ مرمر کی

ٹائلیں ناکارہ ہونے کی وجہ سے تبدیل کردی گئی ہیں۔مسجد حرام میں جنرل ایکسٹریشن برائے آپریشن اینڈ مینٹیننس کے ڈائریکٹر محسن سلمی نے بتایا کہ ادارے کی انتظامیہ نے صحن مطاف میں موجود سنگ مرمر کے ٹائلوں کا باریکی سے جائزہ لیا اور صحن مطاف اور مسجد حرام کے صحن میں موجود خراب ہونے والی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی جگہ نئی ٹائلیں لگا دی گئی ہیں تاکہ مسجد اور صحن مطاف میں زائرین اور معتمرین کو فرش پر ٹھنڈک پہنچائی جاسکے۔محسن سلمی نے مزید کہا کہ 40 تکنیکی ماہرین اور انجینیرزکی موجودگی میں روزانہ کی بنیاد پر صحن مطاف کے سنگ مرمر کا معیار چیک کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحن مطاف میں لگائے سنگ مرمر کی اضافی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں روشی اور حرارت کو جذب کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس طرح کا مہنگا سنگ مرمر صرف مسجد حرام کے لیے بیرون ملک سے منگوایا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں محسن سلمی نے کہا کہ مسجد حرام اور صحن مطاف کو صاف اور ٹھنڈارکھنے کے لیے جدید ترین آلات اور خصوصیات کے حامل پتھر استعمال کیے جاتے ہیں۔ مسجد حرام میں زائرین، نمازیوں اور معتمرین کو بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔واضح رہے کہ مسجدالحرام کے صحنوں میں شجر کاری کی تجویز زیر غور ہے۔یہ تجویز سعودی ویژن 2030 پروگرام کے مطابق ہے۔پروگرام میں قومی حکومت عملی برائے ماحولیات اور از سر نو نباتیاتی ڈھانپ کی حکمت عملی کے علاوہ دیگر تدابیر شامل ہیں۔ ان کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنا، درجہ حرارت اور آلودگی کے تناسب کو نیچے لانا، فضا کے معیار کو بہتر بنانا اور حرم مکی کے صحنوں کو ماحول دوست بنانا ہے۔ شجر کاری کے عمل سے صحنوں کو زینت اور چھاوں ملے گی۔ڈاکٹر السدیس نے مزید کہا کہ حرم مکی کے صحنوں میں شجر کاری کی تجویز کا مقصد زندگی کے معیار کی بہتری ہے۔ علاوہ ازیں وضو کے پانی کو ری سائیکل کر کے اسے چھڑکاو کے عمل میں استعمال کیا جائے گا جس سے قدرتی وسائل کو تحفظ ملے گا۔الحرمین الشریفین کے امور کے نگرانِ اعلی نے زور دیا کہ مذکورہ تجویز سائنسی، تکنیکی اور انتظامی تحقیقی مطالعوں کا تقاضا کرتی ہے۔ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ شجر کاری کے منصوبے کے سبب نماز کے لیے مخصوص جگہائیں یا مجمع کی حرکت متاثر نہ ہو۔ڈاکٹر السدیس کے مطابق تجویز میں اس بات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ مسجد حرام کے صحنوں میں برقی زینوں سے اوپر کے کھلے علاقے سے استفادہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں انجینئرنگ کی روشنی میں حل تلاش کیا جائے گا تا کہ اس پورے عمل کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…