جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی ڈاکٹرنے امریکہ میں مثال قائم کر دی، کینسر کے مریضوں کے لئے خصوصی تحفہ

datetime 2  جنوری‬‮  2021 |

نیو یارک (آن لائن) امریکا میں پاکستانی ڈاکٹر نے مریضوں کو کرسمس کا تحفہ دیتے ہوئے ان کے چھ لاکھ ڈالر سے زائد کے بل معاف کر دئیے۔ امریکی میگزین نیوز ویک کے مطابق ڈاکٹر عمر عتیق نے 200 کینسر مریضوں کے 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر کے بل معاف کر دیے ہیں۔ انہوں نے امریکی ریاست آرکنساس میں کینسر سنٹر بنایا تھا جہاں یہ تمام مریض زیر علاج رہے ہیں۔ ڈاکٹر

عمر عتیق نے کرسمس کے موقع پر اپنے کینسر کے مریضوں کو مبارکباد کا پیغام بھیجتے ہوئے لکھا کہ ان کے علاج کے بقایا جات ادا کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے مریضوں کو لکھے گئے پیغام میں مزید کہا کہ آرکنساس کینسر کلینک کو آپ کی خدمت کرنے پر فخر ہے۔ کلینک نے مریضوں کے بقایات جات معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر عمر عتیق کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہیلتھ انشورنس کے تحت مریضوں کے بیشتر اخراجات پورے کیے جاتے ہیں، تاہم بقایا رقم بھی مریض کے لیے ادا کرنا مشکل بو سکتا ہے۔ ڈاکٹر عمر عتیق کے کینسر سنٹر میں کیمو تھراپی، ریڈی ایشن تھراپی اور دیگر طریقوں کے ذریعے کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عتیق نے مزید کہا کہ مریضوں کی واجب الادا رقم معاف کرنے سے زیادہ بہتر وقت اور کوئی نہیں ہو سکتا جب کورونا کی وبا نے گھر، زندگیاں اور کاروبار تباہ کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عمر عتیق کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ یونیورسٹی آف آرکنساس میں میڈیسن کے پروفیسر ہونے کے علاوہ امریکی کالج آف فزیشن کے بورڈ آف گورنرز کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔ڈاکٹر عمر عتیق کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے مریضوں کو قرضے کے بوجھ سے نجات دلانے کی خوشی ہے۔ کسی بھی مریض کا فزیشن ہونا میرے لیے باعث فخر ہے۔ڈاکٹر عمر کے کلینک نے کسی بھی مریض کا رقم یا انشورنس نہ ہونے کے باعث علاج کرنے سے انکار نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…