جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

فرانس میں مسلمان بچوں کو شناختی نمبر دینے کا قانون بنا دیا گیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

پیرس ( آن لائن )فرانس مسلم دشمنی میں کھل کر سامنے آتا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو گزند پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتااو ر اب طرح طرح کے قانون نافذ کرتے ہوئے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیاجا رہا ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی

جانب سے مسلم کمیونٹی پر چارٹر آف ریپبلکن ویلیو کے نفاذ اور اس کے تحت مسلمان بچوں کے لیے خصوصی طور پر شناختی نمبر الاٹ کرنے کے متنازع اقدام سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ایمانوئیل میکرون نے فرانسیسی کونسل آف مسلم فیتھ (سی ایف سی ایم) کو مذکورہ چارٹر کو قبول کرنے کے لیے 15 دن کی ڈیڈ لائن دی ہے۔اس ضمن میں سی ایف سی ایم کے 8 رہنمائوں نے بدھ کے روز ایمانوئیل میکرون اور وزیر داخلہ جورالڈ ڈارمنین سے بھی ملاقات کی۔برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کے مطابق سی ایف سی ایم نے ایک قومی کونسل برائے امام کے قیام پر اتفاق کیا جو فرانسیسی سرزمین پر رہنے والے تمام اماموں کو سرکاری طور پر منظوری پیش کرے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں واپس لیا جاسکتا ہے۔فرانسیسی صدر کے چارٹر میں کہا گیا کہ اسلام ایک مذہب ہے نہ کہ ایک سیاسی تحریک اور مسلم گروہوں میں غیر ملکی مداخلت پر پابندی ہوگی۔فرانسیسی حکومت نے بھی ایک وسیع پیمانے پر بل کی نقاب کشائی کی جس کا مقصد بنیاد پرستی کو روکنا ہے۔انتہا پسندی کو روکنے کے نام پر ایسے اقدامات چارٹر میں شامل ہیں جس میں گھر پر تعلیم دینے پر پابندی ہوگی اور قانون کے تحت اسکول جانے والے بچوں کو شناختی نمبر دیا جائے گا تاکہ ان کی حاضری یقینی ہو اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے والدین کو 6 ماہ تک جیل اور بھاری جرمانے بھی ہوسکتے ہیں۔مسودہ قانون آئندہ ماہ فرانسیسی کابینہ میں زیر بحث آئے گا جس میں مذہبی بنیادوں پر سرکاری عہدیداروں کو ڈرانے والے افراد کے لیے سخت سزاوں کی تجویز بھی شامل ہے۔ان نئے اقدامات پر سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…