جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ہیری اور میگھن مارکل نے شاہی زندگی سے الگ ہوکر امریکا جاکر  بسنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اطالوی ڈاکیومینٹری میں اہم انکشافات

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)پرنس ہیری اور میگھن مارکل کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے شاہی زندگی سے الگ ہوکر امریکا جاکر بسنے کا فیصلہ دراصل ملکہ الزبیتھ کے سخت قواعد و ضوابط پر مبنی زندگی کی وجہ سے کیا، جس کے باعث بطور شاہی خاندان کا رکن رہ کام کرنا خاصا مشکل ہوتا تھا۔یہ دعوٰی اس وقت سامنے آیا جب ایک اطالوی دستاویزی سیریز یولائسے میں اس پر

کی گئی بحث سامنے آئی، جس کہ مطابق شاہی جوڑے کے پاس کبھی بھی شاہی رقوم سے انکار کا آپشن موجود نہیں ہوگا۔اس دستاویزی سیریز کے میزبان البرٹو انجیلا نے برطانوی میڈیا ادارے ایکسپریس یو کے کو بتایا کہ شاہی نظام کو چلانے کے لیے ملکہ کو ٹیکس پیئرز سے ملنے والی رقوم سے حکومت پیسے دیتی ہے، اور یہ چند پینی (چند سکے کے برابر) نہیں ہوتی۔صرف 2019 میں ملکہ الزبیتھ کو شاہی خاندان اور شاہی نظام کو چلانے کے لیے برطانوی خزانے سے 80 ملین برطانوی پائونڈ فراہم کیے گئے تھے۔ تو مختصراً یہ کہ شاہی خاندان کے افراد حقیقتاً اعلیٰ درجے کے پبلک آفیشلز ہیں، اور انھیں انکی خدمات کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے، اور اس نکتے پر ملکہ برطانیہ اپنے خاندان سے ہمیشہ بڑی سختی سے پیش آتی رہی ہیں۔انکا اصول یہ ہے کہ اگر آپ بادشاہت کے لیے کام کرتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ آپکو کوئی مزید رقم نہیں ملے گی۔ بالکل اسی طرح جسیے پرنس ہیری اور انکی اہلیہ میگھن مارکل کے ساتھ ہوا یعنی انکے شاہی خاندان سے الگ ہوتے ہی انکو رقوم کی فراہم رک گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…