بشارالاسد کے چچا زادرامی مخلوف نے مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے فراڈ کا پردہ چاک کر دیا

  منگل‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2020  |  17:25

دمشق (این این آئی)شام میں صدر بشارالاسد کے چچا زاد رامی مخلوف کی طرف سے صدر اسد اور حکومت پر نئے الزامات سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں رامی مخلوف نے الزام عاید کیا تھا کہ اسد رجیم کے سربراہ بشارالاسد نے مخلوف کی ملکیتی ٹیلی کام کمپنی ''سیریاٹل'' کے تمام اثاثے ہتھیا لیے ہیں۔ رامی مخلوف نے اسد رجیم سے منسلک کچھ اور شخصیات پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا۔خیال رہے کہ رامی مخلوف اپنے الزامات کے اظہار کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کا استعمال کرتا ہے جہاں وہ مختلف ویڈیوز اور تحریریں پوسٹ کرکے


حکومت کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے۔رامی مخلوف نے فیس بک پر لکھا کہ سیکیورٹی اداروں کی چھتری تلے مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا مالیاتی فراڈ کیا گیا۔ اس فراڈ میں جنگ کے لیے کام کرنے والے دولت مندوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔ انہوں نے لوٹ مار کے ذریعے نہ صرف ملک کو غربت سے دوچار کیا بلکہ انسانی امداد کے لیے کام کرنے والے اداروں کو بھی لوٹا۔ لوٹ مار کانہ ختم ہونے والایہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔رامی مخلوف نے بتایا کہ اسد رجیم نے ان کے ماتحت چلنے والے فلاحی ادارے البستان میں شامل راماک فاونڈنشین کو قبضے میں لے لیا ہے اور اس کے وسائل کو بھی اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔رامی مخلوف نے لکھا کہ انہوں نے غریب اور نادار شہریوں کے حقوق کے بستان آرگنائزیشن کی جانب سے سپریم جوڈیشن کونسل میں ایک درخواست بھی دی ہے تاکہ اس ادارے کی لوٹ مار روکی جا سکے۔قبل ایں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ بشارالاسد کی اہلیہ اسماء الاسد البستان تنظیم کو اپنی ذاتی تحویل میں لینا چاہتی ہیں۔خیال رہے کہ شامی صدر بشارالاسد کے چچا زاد 51 سالہ رامی مخلوف اور صدر اسد کے درمیان ایک عرصے سے چپقلش جاری ہے۔ شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے المرصد کے مطابق المخلوف اسد رجیم کی لوٹ مار اور ان کی کرپشن کا پردہ چاک کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎