سابق بھارتی وزیر جسونت سنگھ انتقال کر گئے پاکستان کے کس رہنما پر کتاب لکھنے کی وجہ سے انہیں بی جے پی سے نکال دیا گیا تھا؟جانئے

  اتوار‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2020  |  13:30

نئی دہلی ( آن لائن)قائداعظم محمد علی جناح پر کتاب لکھنے والے سابق بھارتی وزیردفاع و خزانہ جسونت سنگھ 82 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ،انہیں رواں سال جون میں ہسپتال میں داخل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ جسونت سنگھ کی موت اتوار کی صبح ہوئی۔ان کی آخری رسومات جودھپور میں ادا کی جائیں گی، جسونت سنگھ کو قائداعظم پر کتاب لکھنے پر بی جے پی نے 6سال کیلئے پارٹی سے نکال دیا تھا۔انہیں قائداعظم پر کتاب لکھنے اور بانی پاکستان کی تعریف کرنے پر بھارتی جنتا پارٹی نے انہیں2009 میں پارٹی سے بے دخل کر


دیا تھا جس کے بعد وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑتے رہے۔جسونت سنگھ کی کتاب 'جناح تقسیم ہند کے آئینے میں' پر گجرات میں پابندی لگا دی گئی تھی لیکن ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد محمد علی جناح پر تحریر کردہ ان کی کتاب سے پابندی ہٹا لی گئی تھی۔جسونت سنگھ کی موت پر وزیر اعظم مودی نے تین ٹویٹس کیے ہیں جن میں مرحوم کو مختلف سماجی اور سیاسی نظریے والے شخص کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے بانیوں میں سے ایک جسونت سنگھ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کے دوران مختلف وزارتوں کے کابینی وزیر کے عہدوں پر فائز رہے۔انہوں نے 1996 سے 2004 کے دوران دفاع، خارجہ اور خزانہ جیسی اہم وزارتوں کی ذمہ داری سنبھالی۔سال2014 میں انہیں سر میں شدید چوٹ آئی اور تب سے وہ کوما میں تھے۔ وہ 1980 سے 2014 تک رکن پارلیمنٹ رہے اور اس دوران انہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی قیادت کی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎