شاہی سلطنت کی جگہ جمہوری حکومت کی جدوجہد سعودی جلاوطن رہنماؤں نے تہلکہ خیز اعلان کردیا

  جمعرات‬‮ 24 ستمبر‬‮ 2020  |  17:24

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے جلا وطن رہنماؤں اور حکومت کے ناقدین نے ملک میں سیاسی اصلاحات پر زور دینے کے لیے حزب اختلاف کی جماعت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن نے ملک میں پرامن تبدیلی کی بات کہی ہے۔سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلماننے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر سے ایران کے خلاف سخت موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اس کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے۔ ان کے اس خطاب کے محض چند گھنٹوں بعد ہی سعودی عرب کے جلا وطن رہنماؤں کے ایک گروپ


نے ملک میں حزب اختلاف کی جماعت کے قیام کا اعلان کر دیا۔سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایسے بیشتر رہنما برطانیہ، امریکا اور کینیڈا جیسے ممالک میں مقیم ہیں۔ اس کی قیادت لندن میں رہنے والے انسانی حقوق کے سرگرم کارکن یحی عسیری کر رہے ہیں۔ یحیی عسیری کا کہنا ہے کہ ان کی سیاسی جماعت کا مقصدسعودی عرب میں شاہی سلطنت کی جگہ ایک جمہوری طرز کی حکومت کا قیام ہے۔حزب اختلاف کی نئی جماعت 'نیشنل اسمبلی پارٹی (این اے اے ایس) نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حکومت بڑی تعداد میں سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں اور قتل کر کے مسلسل ظلم و تشدد کی راہ پر عمل پیرا ہے۔عسیری سعودی عرب کی فضائیہ کے ایک سابق افسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن پارٹی کا قیام ایک ایسے نازک وقت پر ہوا ہے جب ملک کو بچانا بہت ضروری ہوگیا ہے۔برطانیہ میں تعلیم و تدریس سے وابستہ معروف شخصیت مدوی الرشید پارٹی کی ترجمان ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ سیاسی جماعت قائم کرنے والے افراد کو سعودی عرب کے حکمراں خاندان سے کوئی ذاتی بغض و عناد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جماعت کے قیام کا، ''وقت اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ ظلم  کے ماحول میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اپوزیشن جماعت کے قیاماور اس کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات پر سعودی عرب کی طرف سے ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ ماضی میں سعودی عرب اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کی انتظامیہ ناقدین اور مخالفین کی آواز دبانے کے لیے ظلم و جبر اور تشدد کا راستہ نہیں اپناتی ہے۔سعودی عرب آئندہ نومبر میں جی 20 چوٹی اجلاس منعقد کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے لیکن خام تیل سے ہونے والی آمدنی میں شدید کمی کے باعث وہ معاشی مندی کی مار جھیل رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس صورت حال میں اپوزیشن جماعت کا اعلان اس کے لیے ایک نیااور سخت چیلنج ہے۔شاہ سلمان نے ماضی کی تمام روایات کو توڑتے ہوئے 2017 میں اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا تب سے عالمی سطح پر سعودی عرب کے خلاف ہونے والی نکتہ چینی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ 2018 میں محمد بن سلمان اور سعودیحکومت کی بعض عوام مخالف پالسیوں کے ناقد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں سعودی سفارت خانے میں قتل کے بعد سے محمد بن سلمان اور ملک کی شبیہہ بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔سعودی حکام گرچہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ جمال خاشقجی کے قتل میں محمد بن سلمانملوث تھے، تاہم ایک عدالت نے حال ہی میں آٹھ افراد کو اس قتل کے لیے 20 برس قید کی سزا سنائی ہے۔ محمد بن سلمان نے بعض سماجی اصلاحات کا بھی اعلان کیا ہے، جس میں خواتین کو گاڑی ڈرائیو کرنے کی جازت شامل ہے۔ لیکن ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان مخالفین اورناقدین کا تعاقب کرنے کے لیے معروف ہیں۔ حزب اختلاف کے مطابق محمد بن سلمان نے متعدد انسانی حقوق کے کارکنان، مذہبی علماء اور ملک کے ایسے دانشوروں کو غیر قانونی طور پر حبس بے جا میں رکھا ہوا جو ان کی بات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان انافراد کو کنارے لگانے میں لگے رہتے ہیں جن سے ان کی تخت نشینی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔سعودی عرب کے فرمانروا 84 سالہ شاہ سلمان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں خطے کے اپنے حریف ایران پر امن کا ہاتھ نہ تھامنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دہشت گردارنہ نیٹ ورک کا استعمال کرتا ہے۔ حسب معمول انہوں نے یہ بات بھی دہرائی کی سعودی عرب پر مسلمانوں کے لیے مقدس شہر مکہ کی حفاظت کی خاص ذمہ داری ہے۔


زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎