منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

انتہائی اہم اسلامی ملک میں مے نوشی پر پابندی ختم، جی بہلانے کا سامان دکانوں سے خرید سکتے ہیں، حکم نامہ جاری

datetime 23  ستمبر‬‮  2020 |

ابوظہبی (آن لائن) متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی نے بھی مے نوشی کا سامان خریدنے اور پینے کے لیے ضروری پرمٹ سسٹم ختم کر دیا۔ وزارت ثقافت اور سیاحت کی طرف سے جاری کردہ ایک حکم نامہ میں کہا گیا ہے ہم پرمٹ کی شرط کو ختم کرنے کااعلان کرتے ہیں اور

اب مقیم افراد اور سیاح اجازت یافتہ دکانوں سے مے نوشی کا سامان خرید سکتے ہیں۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خریدنے والے شخص کی عمر کم از کم 21 سال ہونی چاہیے اور اسے پرائیویٹ جگہ یا پھر اس مقصد کے لیے مخصوص جگہ مثلا ً کلب میں پیا جاسکتا ہے۔اس حکم نامے کے اجراء کے ساتھ ابوظبی میں فروخت پر قانونی پابندی ختم ہوگئی تاہم اس حکم نامے میں یہ ابہام موجود ہے کہ آیا مسلمان بھی خرید کرپی سکتے ہیں یا نہیں۔ پڑوسی دبئی پہلے ہی ان ضابطوں میں نرمی کا اعلان کرچکا ہے۔بہر حال دوبئی میں مسلمان اب بھی مے نوشی کے لیے پرمٹ حاصل کرنے کی درخواست نہیں دے سکتے۔متحد ہ عرب امارات کی سات امارات میں سے چھ میں مے نوشی کے سامان فروخت کرنے کی اجازت ہے تاہم شارجہ میں اب بھی پابندی ہے۔ وہاں کوئی مئے خانہ یا بار نہیں۔ عوامی مقامات پر پینے اور پی کر گاڑی چلانے پرملک بھر میں سخت پابندی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ متحدہ عرب امارات فیڈریشن کی سات امارات میں شامل یہ دونوں امارات، کورونا وائرس کی وجہ سے پابندی سے اپنی سیاحتی صنعت کو ہونے والے نقصانات کی بھرپائی کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا ایک اور مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے ہونے والے تاریخی معاہدے کے بعد اسرائیل سے آنے والے سیاحوں کو تمام سہولیات فراہم کرنا بھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…