سعودی آرٹسٹ کے قالینوں پر خواتین کی صورت گری کے سمندر پار چرچے

  منگل‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2020  |  18:06

ریاض (این این آئی )سعودی عرب میں فائن آرٹ کے میدان میں شہرت حاصل کرنے والی ایک دوشیزہ کے فن کو نہ صرف مملکت بلکہ عرب ممالک اور دوسرے ملکوں تک غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب میں فائن آرٹ کی طالبہ فاطمہ النمر اپنےتخلیقی آرٹ کے ذریعے قالینوں پر خواتین کی تصویر گری اور دیگر خاکوں میں مہارت رکھتی ہے۔ قالینوں پر فاطمہ کے تیار کردہ خوبصورت خاکوں میں نہ صرف خواتین کی تصاویر سے انہیں مزین کیا جاتا ہے بلکہ ان تصاویر کے ذریعے معاشرے کے کسی سماجی پہلو کو اجاگر کرکے اس کے


ذریعے مملکت میں خواتین کی امنگوں کی ترجمانی کی جاتی ہے۔فاطمہ النمر نے کہا کہ وہ مشرقی القطیف کے ریتلے اور ساحلی ماحول میں پلی بڑھی ہیں۔ بچپن ہی سے اسے اپنے اطراف کے قدرتی اور فطری حسن کے بارے میں باریکی سے جاننے کا شوق تھا۔ یہی شوق بعد میں اس کے تخلیقی فائن آرٹ کا ذریعہ بنا۔ جب اس نے فائن آرٹ کے میدان میں قدم رکھا تو اس کی عمر بہت چھوٹی تھی مگر والدین نے میری حوصلہ افزائی کی۔ سنہ 1999 سے میں نے فائن آرٹ کے فن پارے تیار کرنا شروع کردیے تھے۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنے تیار کردہ فن پارے کئی ثقافتی نمائشوں میں پیش کر چکی ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎