ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ میں مقیم تارکین وطن کو شدید دھچکا عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو بڑی اجازت دیدی

datetime 17  ستمبر‬‮  2020 |

واشنگٹن (آن لائن) امریکہ کی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو اجازت دے دی ہے کہ وہ 4لاکھ تارکین وطن کو ملک بدر کر سکتے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت کے اس فیصلے سے امریکہ میں رہائش پذیر ان ممالک کے باشندے متاثر ہوں گے جہاں جنگ اور

قدرتی آفات کے باعث نافذ کی گئی ہنگامی صورتحال ختم ہو چکی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے تارکین وطن کے لیے عارضی تحفظ پروگرام کو چیلنج کیا تھا۔ تین ججز کے بینچ میں سے ایک نے مخالفت کی اور 2نے ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دیا۔عارضی تحفظ کا پروگرام 1990میں جارج بش نے شروع کیا تھا اور اب امریکی عدالت نے اس کو ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پروگرام کے تحت متعدد ممالک سے آئے ہوئے پناہ گزین امریکہ میں قانونی طور پر رہ اور کام کرسکتے تھے۔فیصلے کے مطابق 4 لاکھ امیگرینٹس کی قانونی حیثیت ختم کر دی جائے گی جس سے ہیٹی اور سوڈان کے تارکین وطن زیادہ متاثر ہوں گے۔سماعت کے دوران سرکاری وکلا نے مؤقف اپنایا کہ ان ممالک میں ایمرجنسی کی صورت حال ختم ہو چکی ہے۔ ان ممالک سے آنے والے لوگوں کو اب محفوظ جگہوں کی ضرورت نہیں۔ پالیسی شام، جنوبی سوڈان، صومالیہ اور یمن کے تارکین وطن پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے عدالتی فیصلے سے متاثر ہونے والے تارکین وطن کو 5مارچ 2021 تک امریکہ میں رہنے کی اجازت دی ہے۔قبل ازیں2018 میں بھی دو لاکھ ایل سلواڈور کے شہریوں کے پرمٹ منسوخ کیے تھے۔ ان افراد کو2001 میں زلزلے آنے کے بعد عارضی تحفظ پروگرام کے تحت یہ پرمٹ دئیے گئے تھے۔عارضی تحفظ کے پروگرام کے تحت جن ممالک میں جنگیں، وبائی امراض یا قدرتی ا?فات ہوں ان کے باشندوں کو امریکہ میں عارضی طور پر رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…