ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ایسا بھی ہوتا ہے  لالچی دوشیزہ نے انشورنس حاصل کرنے کے لیے خود کو اپنے ہاتھ سے محروم کر دیا 

datetime 13  ستمبر‬‮  2020 |

جبلجانا (این این آئی)وسطی یورپ کے ملک سلووینیا کی عدالت نے ایک 22 سالہ دوشیزہ کو انشورنس کی رقم حاصل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ الگ کرنے پر دو سال قید کی سزا سنادی ۔فرانسیسی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ 22 سالہ دوشیزہ سے ان کا ہاتھ الگ کرنے کا کام ان کے 30 سالہ پارٹنر نے

مبینہ طور پر کروایا۔ انہیں سلووینیا کے شہر جبلجانا کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے تین سال قید کی سزا سنادی ۔جولیجا ایڈلسک نے مبینہ طور پر گول آری سے اپنی کلائی کاٹی تھی تاکہ انہیں انشورنس کے معاوضے کے طور پر چار لاکھ یورو یا چار لاکھ 70 ہزار ڈالر مل سکیں۔ انہیں ایسا کرنے پر گذشتہ سال حراست میں لیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جولیجا ایڈلسک نے دیگر تین افراد کے ساتھ مل کر اپنا ہاتھ جان بوجھ کر کاٹا تھا۔رواں سال کے شروع میں اس گروپ نے پانچ مختلف انشورنس کمپنیوں کے ساتھ لائف اینڈ انجری انشورنس کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد یہ کہا جا رہا تھا کہ انہوں نے ایسا صرف پیسے حاصل کرنے کے لیے کیا۔پولیس کے مطابق جولیجا ایڈلسک نے امید کی تھی کہ انہیں تین لاکھ 80 ہزار یورو تک کے معاوضے کی رقم اور تین ہزار یورو ماہانہ عمر بھر ملیں گے۔پولیس کا مزید کہنا تھا کہ اس گروہ کے افراد جان بوجھ کر کٹا ہوا ہاتھ ہسپتال نہیں لے کر گئے تھے تاکہ مستقل معذوری کی وجہ سے انہیں معاوضے کی رقم سے تین گنا زیادہ مل سکے۔جولیجا ایڈلسک کا کہنا تھا کہ یہ ایک حادثہ تھا۔ تاہم حکام نے بروقت کٹا ہوا ہاتھ اٹھا لیا تھا اور جبلجانا کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹروں نے دوبارہ جوڑ دیا تھا۔ واضح رہے کہ سلووینیا میں اوسط ماہانہ آمدنی ایک ہزار یورو ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…