پیر‬‮ ، 29 جون‬‮ 2026 

وائلڈ لائف کی آبادی میں تشویشناک کمی عالمی تنظیم کا انتباہ

datetime 10  ستمبر‬‮  2020 |

برن(این این آئی)ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ 1970 کے بعد سے وائلڈ لائف کی آبادی میں تشویش ناک طور پر 68 فیصد کی کمی آئی ہے جس پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ماحولیات کے لیے کام کرنے والی معروف تنظیم دی ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف)نے کہاکہ جنگلی حیوانات و نباتات کی آبادی میں سنہ 1970 سے 2016 کے درمیان تشویش ناک شرح سے 68 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ادارے کی ڈائریکٹر جنرل مارکو لیمبریٹنی نے بتایاکہ جنگلی حیاتیات کی مختلف النوع آبادی میں یہ سنگین گرواٹ اس بات کا عندیہ ہے کہ فطرت تیزی سے اجڑتی جا رہی ہے اور ہمارے نظام کی ناکامی پر تنبیہ کے لیے کرہ ارض پوری شدت سے اس کی نشاندہی کر رہی ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف نے  شائع ہونے والی اپنی 2020لیونگ پلانٹ انڈیکس رپورٹ کے لیے خشکی اور پانی میں پائے جانے والے چار ہزار سے زیادہ حیوانات اور مختلف حیاتیات پر معلومات جمع کرنے کی کوشش کی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زرعی زمین اور کاشتکاری کے لیے جنگلات کو تیزی سے کاٹا جا رہا ہے اور جنگلی حیاتیات کی آبادی میں کمی کی سب سے بڑی وجہ جنگلوں کا خاتمہ ہے۔

اس رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ زمین کے قدرتی وسائل کا حد سے زیادہ استحصال بھی وائلڈ لائف کی آبادی میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس تازہ رپورٹ کے مطابق زمین کا تقریبا ایک تہائی حصہ اب خوراک پیدا کرنے کے لیے وقف ہوچکا ہے اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق بعض علاقوں کو دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی خطرات لاحق ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وسطی اور جنوبی امریکا کے منطقہ حارہ میں واقع علاقوں میں گزشتہ پانچ عشروں کے دوران، جنگلی حیاتیات کی آبادی میں 94 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

محترمہ لیمبریٹنی کا کہنا تھاکہ یہ بہت تعجب خیز بات ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ قدرتی دنیا پر بالآخر ہم کس طرح کے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس رجحان میں تبدیلی کے لیے بڑے پیمانے پر نیچر کے تحفظ کی کوششوں کی ضرورت ہے۔اس تحقیق کے مصنفین

کا کہنا تھا کہ کھانے پینے کی اشیا کو کم ضائع کرنے اور زیادہ ماحول دوست غذاں کی طرف توجہ کرنے سے مدد مل سکتی ہے۔ لیکن، ”اس طرح کی منظم کوششوں کی بین الاقوامی سطح پر ضرورت ہے۔اس تحقیق کے انچارج ڈیوڈ لیسلر کا کہنا تھا کہ اس پر فوری طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس میں مزید تاخیر کی گئی تو پھر اتنا زیادہ نقصان ہوچکا ہوگا کہ اسے دوبارہ بحال کرنے میں عشروں لگ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…