ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

افغان حکومت کا بڑا فیصلہ  پیدائشی سرٹیفکیٹ میں والدہ کا نام شامل کرنے کی منظوری

datetime 6  ستمبر‬‮  2020 |

کابل (این این آئی )ماضی میں طالبان کی حکومت کی وجہ سے انتہائی قدامت پسند ملک تصور کیے جانے والے ملک افغانستان کی حکومت نے بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹس پر والدہ کا نام شامل کرنے کی منظوری دے دی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان میں بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹس پر صرف والد کا نام لکھا جاتا ہے جب کہ وہاں خواتین کی شادیوں کے دعوت ناموں اور

یہاں تک کہ ان کی قبروں کے کتبوں پر بھی ان کا نام لکھنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔بڑھتی آبادی اور بچوں سمیت والد کے ایک جیسے نام ہونے کی وجہ سے افغانستان میں حالیہ چند سال میں شناخت میں کچھ مسائل پیدا ہوئے تھے، جس کے بعد خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور کارکنان نے پیدائشی سرٹیفکیٹ میں والدہ کا نام شامل کرنے کی مہم شروع کی تھی۔افغانستان میں کچھ عرصے سے میرا نام کہاں ہے کے ہیش ٹیگ سے مہم جاری تھی اور اسی مہم کے دوران افغانستان کی خواتین سے امور سے متعلق کمیٹی کی چیئرمین و رکن پارلیمنٹ ناہید فرید نے برتھ قوانین میں ترمیم کا مجوزہ بل پیش کیا تھا۔ ناہید فرید کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ قانون میں برتھ سرٹیفکیٹ میں والدہ کا نام بھی شامل کرنے کرنے کی تجویز دی گئی تھی اور مذکورہ بل پر افغان کابینہ نے یکم ستمبر کو اجلاس منعقد کیا تھا۔نائب صدر محمد سرور دانش کی سربراہی میں قانونی معاملات کی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ناہید فرید کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ قانون کا جائزہ لے کر اس کی منظوری دے دی گئی۔کابینہ کمیٹی نے آبادی کے اندراج کے قوانین میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے پیدائشی سرٹیفکیٹ میں والدہ کے نام کو شامل کرنے کی اجازت دی۔کابینہ کمیٹی کی اجازت کے بعد اب مذکورہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں سے منظوری کے بعد ملک کے صدر بل پر دستخط کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…