ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سعود ی عرب میں باپرد ہ خواتین کو نوکریوں سے دھتکارا جانے لگا

datetime 6  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں گزشتہ چند سالوں سے کچھ کمپنیاں صرف ایسی خواتین کو نوکریاں دے رہی ہیں جوان کے کہنے پر پردہ ترک کر رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ جدہ کی خاتون کے ساتھ پیش آیا ہے۔

سعودی اخبار المرصد کے مطابق ایک سعودی خاتون نے سوشل میڈیا پر بتایا ہے کہ اس نے ایک معروف ٹورازم کمپنی کے ڈائریکٹر سے ملازمت کے لیے رابطہ کیا۔ واٹس ایپ پر ہونے والی گفتگو کے دوران ڈائریکٹر نے اس کے سامنے شرط رکھی کہ اگر وہ پردے کے بغیر رہ سکتی ہے اور کھلے ذہن سے اس کے ساتھ تعاون کریگی تواسے ملازمت مل جائے گی۔خاتون نے یہ واٹس ایپ گفتگو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر دی،ٹورازم کمپنی کے ڈائریکٹر نے اسے بتایا کہ ان کی کمپنی کے بحرین اور دیگر ممالک میں بھی دفاتر ہیں ۔ بہت سی خواتین اور مرد بطور ٹور گائیڈ ان کے ساتھ منسلک ہیں۔ خاتون کی جانب سے ڈائریکٹر کے ساتھ بطور آفس سیکرٹری کام کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی تو ڈائریکٹر نے کہا کہ اسے ایک شرط پر ہی نوکری مل سکتی ہے ، اسے پردہ کرنے کی بجائے چہرہ کھلا رکھنا ہو گا ۔کھلے ذہن کی مالک بننا پڑے گی اور اس کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا ہو گا۔بدلے میں اسے 9500 ریال کی شاندار تنخواہ دی جائے گی ۔

تاہم خاتون نے اس ڈائریکٹر سے کہہ دیا کہ اسے اپنی اورگھر والوں کی عزت بہت پیاری ہے۔ وہ اچھی رقم کی خاطر اپنے نقاب سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی اور نہ اسلامی شعار سے دست بردار ہو سکتی ہے۔خاتون کے اس انکار کے باعث اسے ملازمت دینے سے انکار کر دیا گیا۔

ان انکشافات کے بعد سوشل میڈیا پر #Company_claims removing the hijab_for employment, کے نام سے ہیش ٹیگ بن گیا ہے۔ بہت ساری خواتین نے شکایت کا ڈھیر لگاتے کہا کہ انہیں بھی محض اس وجہ سے نوکری نہیں دی گئی کہ انہوں نے ڈیوٹی کے دوران حجاب اتارنے سے انکار کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…