ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بڑے اسلامی ملک کی تاریخ میں پہلی بارعدالتِ عظمی میں آٹھ خاتون جج تعینات،حلف برداری

datetime 4  ستمبر‬‮  2020 |

کویت سٹی (این این آئی)کویت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالتِ عظمی میں آٹھ خاتون ججوں کا تقرر کیا گیا ہے اور انھوں نے  اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا ہے۔ اس طرح کویت پہلا خلیجی ملک بن گیا ہے جہاں اتنی زیادہ تعداد میں خواتین کو کسی اعلی عدالت کا جج مقرر کیا گیا ہے۔کویت کی

سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق ان خواتین سمیت عدالت عظمی میں 54 نئے جج صاحبان کا تقرر کیا گیا ہے۔کویت کی سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین اور اپیل عدالت کے سربراہ یوسف المطاوع نے کہا کہ ان خاتون ججوں کے کام کا کچھ عرصے کے بعد جائزہ لیا جائے گاتاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے عرصے کے بعد ان کی کارکردگی کی جانچ کی جائے گی۔کویت کو خلیج میں سب سے کھلے معاشرے کی حامل ریاست سمجھا جاتا ہے اور یہاں بہت سی خواتین اعلی سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔تاہم بعض روایتی خاندانوں نے اب بھی اپنی خواتین کی نقل وحرکت پر سخت قدغنیں عاید کررکھی ہیں اور انھیں گھر کے کسی مرد کے بغیر باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔کویتی خواتین کی ثقافتی اور سماجی سوسائٹی کی سربراہ للوہ صالح الملا کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم ایک طویل عرصے سے خواتین کے اعلی عدالتوں میں جج کے طور پر تقرر کے لیے جدوجہد کررہی تھی۔انھوں نے کہا کہ خاتون ججوں کا عدالتِ عظمی میں تقرر بہت ہی حوصلہ افزا اقدام ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔واضح رہے کہ کویت میں خواتین کو 2005 میں ووٹ اور کسی سیاسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا حق دیا گیا تھا۔اس کے چار سال کے بعد متعدد خواتین انتخاب لڑ کر پارلیمان کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…