ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

فرانسیسی لڑاکا طیارے رافیل کیا آئے کبوتروں کی سختی آگئی بھارت میں کبوتروں کی سختی آگئی

datetime 3  ستمبر‬‮  2020 |

نئی دہلی(آئی این پی)بھارتی محکمہ شہری دفاع نے انبالہ ایئر پورٹ پر کھڑے رافیل طیاروں کے اطراف حفاظتی اقدامات مزید سخت کردیئے، کبوتر بازوں کو بھی چھت پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق انڈین ایئر مارشل مانویندر سنگھ نے انبالہ ایئر بیس پر تعینات لڑاکا طیارے رافیل کی سیکورٹی کے پیش نظر ہریانہ کے چیف سیکرٹری کو ایک خط لکھا ہے۔اس خط میں ایئر مارشل نے انبالہ ایئر بیس پر تعینات رافیل طیاروں کی حفاظت کے لئے وہاں پرواز بھرنے والے پرندوں کو خطرہ قرار دیتے ہوئے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایئر مارشل کے خط کے بعد محکمہ شہری باڈیز نے ایئر فورس اڈے کے 10 کلو میٹر کے دائرے میں کبوتر اڑانے والے لوگوں (کبوتر بازوں)کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے کبوتر اڑائے تو سخت کارروائی ہو گی۔اس سے قبل ہریانہ کے انبالہ شہر کے حکام کو ہندوستانی فضائیہ کے سٹیشن کو اڑانے کے لئے دھمکی آمیز خط موصول ہوا تھا۔ پولیس افسر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ خط جمعہ کو موصول ہوا تھا، جس کے بعد افسران نے قریبی پولیس سٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے۔پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر انبالہ سٹیشن پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔

آفیسر نے بتایا کہ یہ خط شرارت کے طور پر کچھ شر پسندوں نے بھیجا ہے۔واضح رہے کہ نئی دہلی نے 2016 میں فرانس کے ساتھ 36 رافیل جنگی طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا جس میں سے چھ جیٹ دو جولائی کو انبالہ ایئر بیس پر موجود ہیں۔ بھارتی فضائیہ کو تقریبا ًبیس برس بعد نئی ساخت کے جنگی طیارے ملے ہیں جس کا اسے بڑی شدت سے انتظار تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…