ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

کفالت کا نظام ختم،قطر کے لیبر قوانین میں تبدیلیوں کا اطلاق ہوگیا

datetime 1  ستمبر‬‮  2020 |

دوحہ(این این آئی)قطر نے اپنی لیبر قوانین میں بڑی تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں جس کے بعد وہ خطے میں پہلا ملک بن گیا جہاں تارکین وطن مزدور کے لیے ملازمتوں میں تبدیلی کے لیے اپنے آجروں (کمپنی یا مالکان)کی اجات حاصل کرنا لازمی نہیں ہوگی۔لیبر قوانین میں تبدیلی کے بعد قطر میں ملازمین بلا امتیاز کم سے کم اجرت کے طریقہ کار کو اختیار سکتے ہیں۔

قطر کے نئے لیبر قانون میں سال کے اوائل میں ایکزٹ پرمٹ کی شرط اور کفالت کے نظام کو بھی ختم کردیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق نئے قانون کے تحت تارکین وطن مزدور اپنے معاہدے کے خاتمے سے پہلے نوکری تبدیل کر سکتے ہیں جس کے لیے اب انہیں اپنے آجروں سے این او سی (ناقابل اعتراض اجازت نامہ)حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ایک ہی وقت میں منظور کردہ قانون سازی کے مطابق کم سے کم ایک ہزار قطری ریال اجرت ہوگی جو سرکاری گزٹ میں قانون کی اشاعت کے 6 ماہ بعد نافذ ہوجائے گی۔قوانین کے مطابق کم سے کم اجرت کا اطلاق تمام کارکنوں، تمام قومیتوں اور گھریلو سمیت تمام شعبوں میں ہوگا۔بنیادی کم سے کم اجرت کے علاوہ آجروں کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مزدوروں کو مناسب رہائش اور کھانا فراہم کیا جائے۔قطر میں نئے لیبر قوانین کے مطابق اگر آجر اپنے ملازمین کو بہتر خوراک اور رہائش فراہم نہیں کرتا تو وہ ملازمین کو کم از کم 300 سے 500 قطری ریال الائونس ادا کرنے کا پابند ہوگا۔دوسری جانب بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او)نے قطر کی لیبر مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گائے رائڈر نے کہا کہ قطر نے اس عہد پر عمل کیا ہے جس سے کارکنوں کو مزید آزادی اور تحفظ ملے گا اور ساتھ ہی مالکان کو مزید انتخاب کا موقع ملے گا۔قطر کے مزدور اور سماجی امور کے وزیر یوسف محمد عثمان نے کہا کہ ان کا ملک ایک جدید اور فعال مزدور مارکیٹ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…