ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ سے تعلیم یافتہ سعودی خاتون نے ’’موچی ‘‘ کی دکان کھول لی

datetime 29  اگست‬‮  2020 |

جدہ(آن لائن) امریکہ سے ماسٹرز ڈگری ہولڈر سعودی خاتون نے پرس اور جوتوں کی مرمت کا کام شروع کر دیا۔شیخ البازی نپہلی سعودی خاتون ہیں جنہوں نے ’موچی‘ کے پیشے کو آمدنی کا ذریعہ بنایا ۔نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی خاتون نے نئے پیشے کے انتخاب کے حوالے سے بتایا کہ دراصل اس کے پیچھے ایک قصہ ہے۔ نیویارک میں دیہی و بلدیاتی امور میں ماسٹرز کی طالبہ تھی۔

ایک دن میرے جوتے کی ہیل ٹوٹ گئی۔ یہ جوتا مشہور دکان سے خریدا تھا اور مجھے بے حد پسند تھا۔ سرچ کرکے دیکھا تو پتہ چلا کہ اس کی مرمت ممکن ہے۔ البازی نے بتایا کہ جب دکان سے اپنا جوتا لینے کے لیے گئی تو یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئی کہ وہ بالکل حقیقی شکل میں آگیا تھا- مجھے پتہ چلا کہ جوتوں اور اعلی درجے کے پرس میں خرابی کی مرمت اچھے سے ہوجاتی ہے۔ بعض خواتین سمجھتی ہیں کہ اب ان کا پرس استعمال کے قابل نہیں رہا اور وہ قیمتی پرس کو کچرے کے حوالے کردیتی ہیں۔ یہی سوچ برانڈ جوتوں کے بارے میں بھی ہوتی ہے۔ سعودی عرب واپس آنے کے بعد میں نے یہ کام شروع کردیا کیونکہ میرے علم کے مطابق مجھ سے پہلے کبھی کسی نے یہ کام نہیں کیا تھا۔سعودی خاتون کا کہنا تھا کہ جوتے اور پرس بار بار استعمال کرنے اور دھوپ لگنے کی وجہ سے اپنی چمک دمک کھو دیتے ہیں۔ ترمیم اور تجدید سے ان کی اصل رنگت بحال ہوجاتی ہے۔البازی نے سکالر شپ پر بیرون مملکت تعلیم حاصل کرنے والے سعودی طلبہ و طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ وہاں صرف ڈگری کے حصول میں نہ پڑیں بلکہ ڈگری کے ساتھ نئے تصورات لے کر آئیں۔ کوئی نہ کوئی ایسا ہنریا کاروبار سیکھ کر آئیں جسے وہ اپنے معاشرے میں شروع کرسکیں ۔ شیخ البازی جوتوں کی مرمت کے لیے لاذرسبا کے نام سے دکان کھولے ہوئے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…