ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

’’کشمیر ہے میرانام ‘‘ ترکی نے کشمیریوں کیلئے ترانہ جاری کر دیا

datetime 28  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ترک عوام کی جانب سے بھارتی مظالم کیخلاف آواز بلند کرنے بعد استنبول کے معروف نامہ نغمہ نگار تورگی ایورین نے بھارتی مظالم کے شکار کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایک نغمہ لکھا جسے’’ کشمیر ہے میرا ‘‘ کا عنوان دیا ۔ اس نغمے کے یوٹیوب پر اپ لوڈ ہوتے ہی اب تک لاکھوں افراد نےاسکو پسند اورہزاروں نے شیئر کیا ہے ۔

نغمے پر کشمیریوں نے اظہار کرتے ہوئے شاعری کو سراہا ہے ۔ دوسری جانب ترکی سے ایک بار پھر کشمیریوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکشمیر یکجہتی سیمنار میں بڑی تعداد میں ترکی میں مقیم پاکستانی باشندوں اور پاکستانی طلبا کے علاوہ ترکی کی ممتاز شخصیات جن میں اراکین پارلیمنٹ بھی شامل تھے نے شرکت کی۔ ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں یومِ یک جہتی کشمیر کے موقع پر پاک،ترک کلچرل ایسوسی ایشن اور سفارت خانہ پاکستان کے زیر اہتمام ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔اس موقع پر سفیرِ پاکستان محمد سائرس سجاد قاضی نے سب سے پہلےحکومت ِ ترکی اور ترک باشندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترکی بڑے بھر پور طریقے سےمسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف کی ہمیشہ ہی سے حمایت کرتا چلا آرہا ہے۔انہوں نے پانچ اگست کے بعد پیدا ہونے والی سورتِ حال سے متعلق بھی حاضرین کو آگاہی فراہم کی اور کشمیری بھائیوں کی تحریک آزادی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے کشمیر کے بہادر عوام اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے جدو جہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مسلسل علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتا چلا آرہا ہے لیکن اس کو روکنے والا کوئی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کشمیری اپنی جدو جہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت بھی آج تک ان کو اپنی جدو جہد کو ر وکنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…