ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ہم بھی کسی سے کم نہیں وہ ملک جہاں 34سالہ نابینا نوجوان کو وزیر بنا دیا گیا

datetime 27  اگست‬‮  2020 |

تونس سٹی (این این آئی )تونس میں وزیر اعظم ہشام المشیشی نے ثقافتی امور کی وزارت کا قلم دان سونپنے کے لیے ایک نابینا نوجوان کا انتخاب کیا ہے۔ اس طرح وہ تونس میں حکومتی منصب پر فائز ہونے والا پہلا وزیر ہے جو خصوصی ضروریات کا حامل ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق تونس کی ایک یونیورسٹی کا نمایاں پروفیسر 34 سالہ ولید الزیدی جس نے معذور افراد کی نفسیات میں خصوصی تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ اپنی پیدائش کے دو سال بعد ہی بینائی سے محروم ہو گیا۔تاہم اس کمی نے ولید کو اپنی تعلیم کے سفر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے سے نہیں روکا۔ وہ اس سفر میں امتیازی حیثیت سے آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ اپنے ارد گرد موجود نوجوانوں اور معذور افراد کے لیے ایک رول ماڈل بن گیا۔ولید کے والد کا تعلق تونس کے شہر تاجروین سے ہے۔ دو سال کی عمر میں جب ولید کی بینائی ختم ہوئی تو ولید کے والد اسے لے کر دارالحکومت تونس شہر منتقل ہو گئے۔ یہاں ولید نے نابینا افراد کے انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم کا آغاز کیا۔ ابتدا میں اسے ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں بڑی مشکلات کا سامنا رہا تاہم وہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنی پڑھائی جاری رکھنے پر مصر رہا۔ آخر کار گریجویشن اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ولید منوبہ صوبے میں آداب و فنون کے کالج میں ترجمے اور بلاغت کا نمایاں معلم بن گیا۔ جنوری 2019 میں ولید نے بلاغت کے مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر لی۔ولید الزیدی کو اس کی جامعہ میں تونس کا طہ حسین کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ ولید کی زندگی اور تعلیم کا سفر بڑی حد تک مصری اور عربی ادب کے سرخیل طہ حسین کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ طہ حسین بھی 7 دہائیوں قبل مصر میں وزیر تعلیم کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…