ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی میں سکھ، کشمیری برادری کی جاسوسی پر بھارتی شہری کے ٹرائل کا آغاز

datetime 26  اگست‬‮  2020 |

فرینکفرٹ(این این آئی ) نئی دہلی کی خفیہ سروسز کے لیے جرمنی میں سکھ اور کشمیری برادریوں پر جاسوسی کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے ایک بھارتی شہری پر فرینکفرٹ میں ٹرائل کا آغاز ہوگیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 54 سالہ بلویر ایس کے نام سے ہوئی ہے،

اس پر کم از کم جنوری 2015 سے بھارت کی غیر ملکی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلیسیس ونگ(را)کے لیے کام کرنے کا الزام ہے۔استغاثہ کا کہناتھا کہ اس نے جرمنی میں سکھ اپوزیشن اور کشمیریوں کی تحریک اور ان کے رشتہ داروں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور یہ بات ان معلومات کو فرینکفرٹ میں بھارتی قونصل خانے میں ایسے معاملات دیکھنے والوں کو پہنچائی۔علاقائی اعلی عدالت میں مجموعی طور پر 10 سماعتیں شیڈول کی گئی ہیں اور 29 اکتوبر کو مقدمے کی آخری سماعت ہوگی۔واضح رہے کہ اسی فرینکفرٹ عدالت نے گزشتہ دسمبر میں ایک بھارتی جوڑے کو انہی برادریوں میں جاسوسی کا مجرم قرار دیا تھا۔غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے پر شوہر کو 18 ماہ کی معطل قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اس کی بیوی کو اس کی مدد کرنے پر 180 روز تک مزدوری کا جرمانہ عائد کیا تھا۔بھارت اور پاکستان کے درمیان 1947 میں آزاد ہونے کے بعد سے کشمیر کا تنازع موجود ہے، جوہری حریفوں نے تین میں سے دو جنگیں خطے کے لیے لڑی ہیں۔بھارتی خفیہ سروسز کو فرینکفرٹ سے خاصی دلچسپی ہے کیونکہ مغربی جرمنی کے اس علاقے میں ملک کی سب سے بڑی سکھ برادری آباد ہے جو تقریبا 10 ہزار سے 20 ہزار کے درمیان ہے، اور یہ یورپ میں کسی بھی علاقے میں سب سے زیادہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…