ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ، کویتی ارکان پارلیمان نے بھی اپنا دو ٹوک فیصلہ سنا دیا

datetime 21  اگست‬‮  2020 |

کویت سٹی (این این آئی)خلیجی ریاست کویت کے ارکان پارلیمان نے متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے اور صہیونی ریاست کے ساتھ معاہدہ کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کویتی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کے کسی جھانسے میں نہ آئے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کویتی پارلیمنٹ کے 37 سرکردہ ارکان نے ایک متفقہ بیان پر دستخط کیے

جسے ایوان میں دیگر ارکان میں تقسیم کیا گیا۔بعد ازاں وہ بیان اخبارات کو جاری کیا گیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے اس بیان میں حکومت پر زور دیا کہ وہ قضیہ فلسطین کے حوالے سے عالم اسلام اور عرب ممالک کے اجتماعی فیصلے سے باہر نہ آئے۔ ان کا کہناتھا کہ امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اور صہیونی ریاست کے ساتھ معاہدہ کرنا بین الاقوامی اصولوں، عرب ممالک کے متفقہ فیصلوں، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کی قراردادوں کی صریح نفی اوران سے انحراف ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے صہیونی ریاست کے نہتے فلسطینیوںکے خلاف جنگی جرائم میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور نہ ہی اس طرح کے کسی اقدام سے فلسطینی قوم کو ان کے حقوق مل سکیں گے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امارات نے ایک ایسے وقت میں صہیونی ریاست کو تسلیم کیا ہے جب مسجد اقصی اور القدس کی بے حرمتی اور مقدس مقامات کو یہودیانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ خلیجی ریاست کویت کے ارکان پارلیمان نے متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے اور صہیونی ریاست کے ساتھ معاہدہ کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کویتی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کے کسی جھانسے میں نہ آئے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کویتی پارلیمنٹ کے 37 سرکردہ ارکان نے ایک متفقہ بیان پر دستخط کیے جسے ایوان میں دیگر ارکان میں تقسیم کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…