بیروت دھماکوں سے متاثرہ 60 تاریخی عمارتوں کے منہدم ہونے کا خطرہ

  جمعہ‬‮ 14 اگست‬‮ 2020  |  17:32

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت (یونیسکو)نے متنبہ کیا ہے کہ اگست کے اوائل میں بیروت میں ہوئے دھماکے سے عالمی تاریخی ورثے میں شامل 640 عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور ان میں سے 60 کے منہدہم ہونے کا خطرہ ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابقتنظیم نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے یہ اعداد و شمار لبنان کی وزارت ثقافت کے نوادرات کے ڈائریکٹر جنرل سرکیس خوری کے ایک جائزہ سے حاصل کیے ۔ خوری نے کہا کہ بیروت دھماکوں میں کم سے کم آٹھ ہزار عمارات کو نقصان پہنچا تھا۔ ان میں سے


بیشتر پرانی کالونیوں جیمیزہ اور مار میخائل میں واقع ہیں۔ انہوں نے متاثرہ تاریخی عمارتوں کی فوری مرمت کا مطالبہ کیا اور کہا بروقت ان عمارتوں کی مرمت نہ کی گئی تو موسم خزاں کی بارشیں ان کے منہدم ہونے کا باعث بن سکتی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دھماکے سے متعدد عجائب گھروں جن میں نیشنل میوزیم ، سرسق میوزیم ، امریکن یونیورسٹی آف بیروت میوزیم ، اور ثقافتی اور مذہبی مقامات اور گیلریوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔یونیسکونے اعلان کیا کہ وہ بیروت کے متاثرہ تاریخی ورثہ کی تعمیر نو کے لیے وہ بین الاقوامی تحریک کی قیادت کرے گا۔ یونیسکو کا کہنا تھا کہ وہ بیروت دھماکوں سے متاثرہ مقامات کی بحالی کے لیے لبنان اور بیرون ملک ثقافتی تنظیموں اور ماہرین کی مدد لے رہی ہے۔


زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎