متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے امن معاہدہ کو فلسطینی عوام کی پیٹھ میں غدارانہ وار قرار دیدیا گیا، ایران فلسطین کا شدید ردعمل

  جمعہ‬‮ 14 اگست‬‮ 2020  |  0:16

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات شروع ہونے کے بعد ایران اور فلسطینی قیادت نے معاہدے کو مسترد کر دیا ہے، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسترد کرتے ہیں یہ فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرتے اور عوام کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہیں، حماس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ فلسطینی عوام کی پیٹھ میںغدارانہ وار کے مترادف ہے، متحدہ عرب امارات فلسطینی مقصد کے لئے اپنی قومی، مذہبی اور انسانیت سوز ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر


رہا ہے۔ فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کے ممبر حنان ایشوری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ معاملات کھل کر سامنے آگئے ہیں، فلسطین کی اسلامک جہاد موومنٹ نے اس معاہدے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے دیا۔ ایران نے اس معاہدے کو شرمناک قرار دے دیا، واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ باہمی تعلقات کا امن معاہدہ کر لیا، نئے ہونے والے معاہدے کی رو سے اسرائیل سے امن کرنے والے ممالک کے مسلمان مقبوضہ بیت المقدس میں آ کر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھ سکیں گے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ خیال رہے کہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد سے کسی عرب ملک کی طرف سے باضابطہ طور پر یہ تیسرا معاہدہ ہے اس سے قبل مصر نے 1979 اور اردن نے 1994 میں اسرائیل سے امن معاہدہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور ابو اظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تاریخی پیش رفت مشرق وسطی میں امن کے قیام میں مدد دے گی۔اس بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں اسرائیل مقبوضہ غرب اردن کےمزید علاقے اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے کو معطل کر دے گا۔ معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کا معاہدہ طے پاگیا ۔دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملکوں میں سفارتخانے قائم کریں گے جبکہ سیکیورٹی ،توانائی ۔ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں بھی تعاون پر اتفاق ہوا ہے ۔ ٹرمپ نے ٹویٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ آج ایک بہت بڑاکام ہوگیا ہے اسرائیل اور یو اے ای کے مابین تاریخی امنمعاہدہ ہوگیاہے جس کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل آپس میں تعلقات مکمل بحال کریں گے ۔دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل ایک دوسرے کے ملکوں میں سفارتخانے قائم کریں گے ۔جبکہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں بھی چلائی جائیں گی ۔دونوں ملکوں کے وفود آئندہ ہفتے ملیں گے ۔یواے ای کے ولی عہد شیخ محمد بن زاہد النہیان اور اسرائیل وزیراعظم کے درمیاناتفاق ہوا ہے کہ سیکیورٹی توانائی ،ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون کیاجائے گا ،اور دونوں ممالک باہمی تعاون کے فروغ کے لئے کام کریں گے جبکہ معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطین کے مزید علاقوں پر قبضہ نہیں کرے گا۔اب تک اسرائیل اور خلیج کے عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں تھے۔دونوں ملکوں میں ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات کی وجہ سے غیر رسمی رابطے تھے ۔ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کی ایک حیران کن شرط یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اب باقی مسلم ممالک کو بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے لئے تیار کرے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎