لبنان شدید معاشی بحران کا شکار لیکن مرکزی بینک کے گورنر کتنے اثاثوں کے مالک نکلے؟رپورٹ میں اہم انکشافات

  جمعرات‬‮ 13 اگست‬‮ 2020  |  17:17

بیروت(این این آئی)ایک میڈیا گروپ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ لبنان کے سنٹرل بینک کے گورنر کی ملکیت والی غیر ملکی کمپنیاں تقریبا10 کروڑ ڈالر کے اثاثوں کی مالک ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب لبنان کی معاشی بحران میں مرکزی بنک کے گورنر کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔لبنان کی ویب سائیٹ کی شریک ایک غیر منافع بخش ادارے ٹریکنگ کراس بارڈر آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن کے پروجیکٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ لبنان کے مرکزی بنک


کے گورنر ریاض سلامہ کی کمپنیوں نے گذشتہ 10 سال کے دوران برطانیہ ، جرمنی اور بیلجیئم میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی ہے۔سرائیوو پر مبنی باڈی کی رپورٹ جو یورپی خبروں کی اشاعت سے تیار کی گئی میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سلامہ نے کوئی غلط کام کیا یا نہیں۔ اس ادارے نے خبر رساں ایجنسی کے ساتھ ایسی کوئی دستاویز شیئر نہیں کی ہے جس پر یہ رپورٹ مبنی ہے۔اس رپورٹ کے جواب میں ، سلامہ نے بتایا کہ اس نے اپریل میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران سنہ 1993 میں مرکزی بینک کا گورنر بننے سے قبل بتایا تھا وہ 23 ملین ڈالر کے مالک ہیں۔انہوں نے کہا میں نے اس کو ثبوت کے طور پر ثابت کرنے والی دستاویزات پیش کیں۔ یہ میری دولت کے منبع کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنا تھا اور یہ واضح کرنا تھا کہ یہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی ہے۔ ریاض سلامہ نے کہا کہ اس سے قبل انہوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے پیشہ ور افراد اور ٹرسٹیوں سے کہا ہے کہ میری دولت کا منبع واضح ہے۔کسی دور میں سلامہ کو لبنان کے مالی استحکام کے ایک ستون کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔لیکن وہ رواں سال کے شروع میں مالی سسٹم کے خاتمے کے بعد سے دنیا کے سب سے بھاری عوامی قرضوں کے بوجھ تلے ملک کو دبانے کے باعث عوامی غم و غصے کا نشانہ بن گئے تھے۔یہ رپورٹ لبنان ایک ایسے حساس وقت میں سامنے آئی ہے جب بیروت کی بندرگاہ پرہونے والے دھماکوں کے باعث پورا ملک صدمے سے دوچار ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎