ہماری بیٹی بچ سکتی تھی، پہلے بھی یہ کام کرکے 2 بار اپنی بیٹی کی جان بچا چکے ہیں، دم توڑتی بچی کے والدین کے ساتھ پولیس کا بہیمانہ سلوک

  پیر‬‮ 10 اگست‬‮ 2020  |  23:44

لندن (این این آئی)برطانیہ کے اسپتال میں دم توڑتی بچی کے ڈاکٹرز والدین کے ساتھ پولیس کے ناروا سلوک پر برٹش پاکستانی ڈاکٹرز نے احتجاج کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق دوسری جانب واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ایک سال قبل برطانوی اسپتال میں دم توڑتی 6 سالہ بچی زینب کے والدین ڈاکٹر ارشد اور ڈاکٹر عالیہ کو پولیس اہلکاروں نے زبردستی وارڈ سے نکالا،گھسیٹا، انہیں مارا گیا اور انہیں ہتھکڑیاں لگائیں۔ایک سال قبل پیش آنے والے اس ناخوشگوار واقعے سے قبلاسپتال انتظامیہ نے زینب کا


وینٹی لیٹر ہٹانے کی اجازت کے حصول کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم ہائی کورٹ میں سماعت کی تاریخ سے 3 روز قبل ہی زینب انتقال کر گئی تھی۔زینب کے والدین عالیہ عباسی اور راشد عباسی دونوں ڈاکٹرز ہیں جنہوں نے اسپتال کے اِس فیصلے پر اعتراض کیا تھا کہ زینب زیادہ عرصے نہیں جی سکتی، اس لیے وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا جائے۔زینب سوائن فلو کا شکار ہونے کے بعد سانس کے مرض میں مبتلا تھی اور والدین کا موقف تھا کہ پہلے بھی دو مواقع پر وہ اسٹرائیڈز کی مقدار بڑھا کر اپنی بیٹی کی جان بچا چکے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎