ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ترک صدر طیب اردوان کے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے کے بعد ترک تعلیمی اداروں میں مقبوضہ کشمیر کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں، بھارت تشویش میں مبتلا‎ہو گیا

datetime 10  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ترک صدر رجب طیب ایردوان نے مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ ترکی اور پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بھارت کیخلاف اتحادبھی کیا تاہم اس حوالے سے اب ترک یونیورسٹیز میں کشمیر کی آزادی کیلئے آوازیں اٹھنے لگیں ہیں۔بھارتی سیکورٹی ایجنسیز کے مطابق پاک ترک دیرینہ دوستانہ تعلقات کی

وجہ سے اب ترکی کی یونیورسٹیز میں بھارت مخالف اور کشمیر کی آزادی کیلئے تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ ترکی گزشتہ برس ستمبر میں مقبوضہ کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اٹھا چکا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تقریبات ترکی میں پاکستانی سفارتخانے کے تعاون سے منعقد کی جارہی ہیں جبکہ پاکستان کے تعاون سے چلنے والی این جی اوز بھی ان تقریبات میں پیش پیش ہیں۔قبل ازیں ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدامات سے صورت حال مزید ابتر ہوئی، ترکی کشمیر کے تنازعے کا سیاسی حل چاہتا ہے۔ترکی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر مبنی قانون کے اطلاق کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد وہاں کی صورت حال مزید ابتر ہو چکی ہے اور علاقائی امن و استحکام کو بھی متاثر کیا ہے۔ ترکی اس تنازعے کے سیاسی حل کےلیے اقوام متحدہ کی طے شدہ قراردادوں پرعمل درآمد چاہتا ہے۔اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردگان کے بھی کشمیر کی حمایت میں بیانات آ چکے ہیں، ترکی کا شروع سے موقف پاکستانی بیانئے کے مطابق رہا ہے، ترکی نے مظلوم کشمیریوں کے حق میں ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ طیب اردگان وقتا فوقتا کہتے رہے ہیں کہ کشمیری تنہا نہیں، ترک عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ گزشتہ برس بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 5 اگست کے لاک ڈاون پر کشمیری عوام کے حق میں بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا، انکار پر ترکی کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…