ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلوی جنگلات میں آگ سے 3 ارب جانور ہلاک یا دربدر ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر کی رپورٹ میں اہم انکشافات

datetime 29  جولائی  2020 |

سڈنی (این این آئی)ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سال 20-2019 میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں تقریباً 3 ارب کوآلا، کینگروز اور دیگر مقامی جانور ہلاک یا دربد ہوئے۔خلیج ٹائمز میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی

ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس غیرمعمولی آگ کے نتیجے میں 3 ارب جانور ہلاک ہوئے یا متاثرہ علاقہ چھوڑ گئے اور یہ جدید تاریخ میں جنگلی حیات کی بدترین تباہی میں سے ایک ہے۔آسٹریلیا کی مختلف جامعات کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں کہا کہ جنگلی حیات میں 14 کروڑ 30 لاکھ ممالیہ، 2 ارب 46 کروڑ رینگنے والے جانوروں، 18 کروڑ پرندوں اور 5 کروڑ 10 لاکھ مینڈکوں کو متاثر کیا۔ رپورٹ کو یونیورسٹی آف سڈنی، یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز، یونیورسٹی آف نیو کاسل، چارلس اسٹرٹ یونیورسٹی اور کنزرویشن گروپ برڈ لائف آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی جانب سے تیار کیا گیا۔اس تحقیق کے مصنفین میں سے ایک کرس ڈکمین کا کہنا تھا کہ اگرچہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آگ کی وجہ سے کتنے جانور مرے لیکن خوراک، پناہ گاہ اور شکاریوں سے تحفظ میں کمی کے باعث جو اس آگ سے بچ گئے ‘شاید ان کے لیے بھی بہت اچھا’ نہیں تھا۔خیال رہے کہ 2019 کے آخر اور 2020 کے آغاز میں آسٹریلیا بھر کے جنگلات اور خشک سالی سے متاثرہ زمین کا ایک لاکھ 15 ہزار اسکوائر کلومیٹرز سے زائد (44 ہزار اسکوائر میل) حصے پر آگ لگی تھی جس کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک اور ہزاروں گھر تباہ ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…