ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

مہلک وبا کے دوران10 ہزار غیر کشمیری کارکن خاموشی سے کشمیر پہنچ گئے

datetime 23  جولائی  2020 |

سرینگر(این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے دس ہزار غیر کشمیریوں کی جموں وکشمیر آمد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارتی قابض انتظامیہ سے کہا ہے کہ اس بات کی تصدیق کی جائے کہ کہیں یہ لوگ کورونا وبا میں مبتلا تو نہیں ہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مفتی ناصر الاسلام نے سرینگر میں ایک میڈیا انٹرویو امرناتھ یاتریوں کیلئے کورونا وائرس کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کی سہولت کے بارے میں بھی سوال کیا کیونکہ ہندو یاتری امرناتھ یاترا کیلئے کشمیر پہنچنے والے ہیں۔ انہوں نے حیرانگی ظاہر کہ کہ مہلک وبا کے دوران دس ہزار غیر کشمیری کارکن خاموشی سے کشمیر پہنچ گئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ یہ غیر کشمیری ایسے وقت میں مقبوضہ علاقے پہنچے ہیں جب وبا اپنے عروج پر ہے ، متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اورسرینگر سمیت تمام ضلعی ہیڈ کواٹرز کاسخت لاک ڈائون جاری ہے ۔انہوںنے سول کیاکہ وبا کے دوران غیر کشمیری کارکنوں کو مقبوضہ علاقے لانے کی کیاضرورت تھی ۔ مفتی ناصر اسلام نے مزید کہاکہ کیاان غیر کشمیری کارکنوںکا کورونا کا ٹیسٹ کیاگیا اور اگر وہ مثبت آیا تو ان کیلئے قرنطینہ کی کوئی سہولت ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان غیر مقامی کارکنوںکی اکثریت کشمیری عوام کے ساتھ گھل مل جاتی ہے جس سے کشمیر کی پوری آبادی کو وبا تیزی سے پھیلنے شدید خطرہلاحق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے ابھی تک یاتریوں کے کوررونا کے ٹیسٹ کرانے اور ان کیلئے قرنطینہ کی سہولت ے بارے میں آگاہ نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بھارت وادی کشمیر میں مقامی آبادی میں مہلک وائرس پھیلانے کیلئے جان بوجھ کرکورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو مقبوضہ علاقے منتقل کررہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…