بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

بھارت کا جنگی جنون سر چڑھ کر بولنے لگا، صرف جنگی سازو سامان کیلئے سینکڑوں ارب کی منظوری

datetime 2  جولائی  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کی وزارت دفاع نے 389ارب روپے کے جنگی ساز و سامان کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی زیر صدارت ہونے والے دفاعی ساز و سامان کے حصول کی کونسل (ڈیفنس ایکوئزیشن کمیٹی) نے روسی ساختہ لڑاکا طیارے، میزائل سسٹم اور ریڈار کی خریداری کیلئے 389 ارب بھارتی روپے کی خریداری کی توثیق کردی۔

کونسل کی منظوری کے بعد بھارت 33 نئے جنگی طیارے خریدے گا جن میں روس سے 21 مگ 29 لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے اورمقامی سطح پر 12 ایس یو 30 ایم کے آئی طیارے تیار ہوں گے، اس کے علاوہ بھارتی فضایہ میں شامل پہلے سے موجود 59 مگ 29 طیاروں میں بہتری لانے کی تجویز بھی منظور کرلی ہے۔بھارتی وزارت دفاع کے حکام کے مطابق مگ 29 طیاروں کے بیڑے میں بہتری اور نئے طیاروں کی خریداری پر 74 ارب روپے سے زائد رقم صرف ہوگی۔ اسی طرح ہندوستان ائیروناٹک لمیٹڈ سے 12 نئے ایس یو تھرٹی ایم کے آئی کی خریداری پر107 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی جائے گی۔ علاوہ ازیں بھارتی فضائیہ اور بحریہ کو زیادہ دور تک مار کرنے والے میزائل فراہم کرنے کے لیے پیناکا میزائل سسٹم بھی خریدا جارہا ہے۔یاد رہے کہ 2016 میں بھارت نے فرانس سے 36 جدید رفائل جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان میں سے 6 رفائل طیارے رواں ماہ تک بھارت کے حوالے کردیے جائیں گے۔ بھارت میں حزب اختلاف نے اس معاہدے میں وزیر اعظم مودی اور ان کے قریبی تصور کیے جانے والے بھارتی سرمایہ کار انیل امبانی کے کردار پر کئی سوال کھڑے کیے تھے۔واضح رہے کہ لداخ کی گیلوان وادی میں چینی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 20 فوجیوں کی ہلاکت اور سرحدی علاقے میں پسپائی کے بعد سے بھارت کے جارحانہ عزائم میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستان سے ملحقہ ایل او سی پر بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ کارروائیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان حالات میں جنگی سازوسامان کے لیے اتنی بڑی رقم کی منظوری مستقبل سے متعلق بھارتی عزائم کے بارے میں بہت کچھ واضح کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…