اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارت کا جنگی جنون سر چڑھ کر بولنے لگا، صرف جنگی سازو سامان کیلئے سینکڑوں ارب کی منظوری

datetime 2  جولائی  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کی وزارت دفاع نے 389ارب روپے کے جنگی ساز و سامان کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی زیر صدارت ہونے والے دفاعی ساز و سامان کے حصول کی کونسل (ڈیفنس ایکوئزیشن کمیٹی) نے روسی ساختہ لڑاکا طیارے، میزائل سسٹم اور ریڈار کی خریداری کیلئے 389 ارب بھارتی روپے کی خریداری کی توثیق کردی۔

کونسل کی منظوری کے بعد بھارت 33 نئے جنگی طیارے خریدے گا جن میں روس سے 21 مگ 29 لڑاکا طیارے خریدے جائیں گے اورمقامی سطح پر 12 ایس یو 30 ایم کے آئی طیارے تیار ہوں گے، اس کے علاوہ بھارتی فضایہ میں شامل پہلے سے موجود 59 مگ 29 طیاروں میں بہتری لانے کی تجویز بھی منظور کرلی ہے۔بھارتی وزارت دفاع کے حکام کے مطابق مگ 29 طیاروں کے بیڑے میں بہتری اور نئے طیاروں کی خریداری پر 74 ارب روپے سے زائد رقم صرف ہوگی۔ اسی طرح ہندوستان ائیروناٹک لمیٹڈ سے 12 نئے ایس یو تھرٹی ایم کے آئی کی خریداری پر107 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی جائے گی۔ علاوہ ازیں بھارتی فضائیہ اور بحریہ کو زیادہ دور تک مار کرنے والے میزائل فراہم کرنے کے لیے پیناکا میزائل سسٹم بھی خریدا جارہا ہے۔یاد رہے کہ 2016 میں بھارت نے فرانس سے 36 جدید رفائل جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان میں سے 6 رفائل طیارے رواں ماہ تک بھارت کے حوالے کردیے جائیں گے۔ بھارت میں حزب اختلاف نے اس معاہدے میں وزیر اعظم مودی اور ان کے قریبی تصور کیے جانے والے بھارتی سرمایہ کار انیل امبانی کے کردار پر کئی سوال کھڑے کیے تھے۔واضح رہے کہ لداخ کی گیلوان وادی میں چینی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 20 فوجیوں کی ہلاکت اور سرحدی علاقے میں پسپائی کے بعد سے بھارت کے جارحانہ عزائم میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستان سے ملحقہ ایل او سی پر بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ کارروائیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان حالات میں جنگی سازوسامان کے لیے اتنی بڑی رقم کی منظوری مستقبل سے متعلق بھارتی عزائم کے بارے میں بہت کچھ واضح کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…