اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

قطر میں غیر ملکی ورکروں کے حقوق کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے،ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ جاری کرتے ہوئے بڑا انکشاف کر دیا 

datetime 12  جون‬‮  2020 |

دوحہ(این این آئی)انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بار پھر قطر میں غیر ملکی ورکروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جاری ایک رپورٹ میں تنظیم نے کہاکہ بعض اصلاحات کے باوجود ان ورکروں کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔نئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ قطر میں فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر میں معاون ایک تعمیری کمپنی کئی ماہ سے

اپنے ورکروں کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس بات کا علم متعلقہ حکام کو بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی کپ کی میزبانی کرنے والے فٹبال گراؤنڈ تیار کرنے والے ورکروں کو تنخواہیں نہیں ملیں۔یاد رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رواں سال اپریل میں بتایا تھا کہ قطری حکام نے درجنوں غیر ملکی ورکروں کو گرفتار کر کے انہیں ملک سے بے دخل کر دیا۔ اس سے قبل مذکورہ ورکروں کو آگاہ کیا گیا تھا کہ ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ ہو گا۔ایمنسٹی تنظیم نیپال سے تعلق رکھنے والے 20 ورکروں سے ملاقات کر چکی ہے۔ ان افراد کو قطر کی پولیس نے رواں سال مارچ میں دیگر سیکڑوں افراد کے ساتھ گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس نے زیادہ تر ورکروں سے کہا کہ ان کا کروناکا ٹیسٹ ہو گا اور پھر انہیں واپس ان کی قیام گاہ پر بھیج دیا جائے گا۔ تاہم اس کے بجائے ان لوگوں کو حراستی مراکز منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں کئی روز تک خوف ناک حالات میں رکھا گیا۔ بعد ازاں ان کو نیپال بھیج دیا گیا۔تنظیم کے مطابق اس نے جن ورکروں سے بات چیت کی ان میں سے کسی کو یہ نہیں معلوم کہ قطری حکام نے ان کے ساتھ یہ برتاؤ کیوں کیا۔ وہ اپنی حراست اور بے دخلی کے خلاف اپیل بھی نہیں کر سکے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل میں عالمی معاملات کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیو کوکبرن کا کہنا تھا کہ غیر انسانی حالات میں کئی روز حراست میں رہنے کے بعد ان میں سے بہت سے افراد کو طیارے میں سوار کرانے سے پہلے اپنا سامان جمع کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…