بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

کچھ دو ،کچھ لو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکرفلسطینی ریاست قائم ہوسکتی ہے،اسرائیلی وزیراعظم افسوسناک بیان سامنے آگیا

datetime 30  مئی‬‮  2020 |

مقبوضہ بیت المقدس ( آن لائن) عبرانی ذرائع ابلاغ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے فلسطینی علاقوں پر صہیونی خود مختاری کے ویڑن کی تفصیلات جاری کردیں۔عبرانی اخبار کو ایک طویل انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاھو نے کہا کہ اگر فلسطینی مغربی کنارے اور وادی اردن کے تمام علاقوں پر سیکیورٹی کنٹرول پر راضی ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی الگ ریاست کے حصول کی طرف جاسکتے ہیں۔

یہ تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(صدی کی ڈیل)کے منصوبے میں طے کی گئی ہے۔نیتن یاھو نے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی نیم خود مختار ریاست کے قیام اور اس کے حصول کے لیے 10 شرائط پرعمل درا?مد کرنا ہوگا۔ یعنی مغربی کنارے اور وادی اردن میں آباد بستیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنا ہوگا۔متحدہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہوگا۔کسی بھی مہاجرین فلسطینی کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا اور تمام فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا سیکیورٹی کنٹرول ماننا ہوگا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مغربی کنارے پر خود مختاری کا اطلاق کرنے کا یہ سنہری اور تاریخی موقع ہے جسے وہ کسی صورت میں ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تاریخی رجحان کو تبدیل کرنے کا ایک تاریخی موقع ہے۔گذشتہ تمام سیاسی منصوبوں میں 1967 کی سرحدوں تک علاقوں پر اسرائیلی مراعات شامل تھیں۔ القدس کو تقسیم کرنے اور مہاجروں کے مسئلے کو حل کرنے کی بات کی گئی تھی۔نیتن یاہو نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے، وہاں کے سفارتخانے کی منتقلی کے ساتھ ساتھ گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے، غرب، اردن ، وادی اردن اور بحر مردار کے اسرائیلی الحاق کیاعلانات کی حمایت کی ہے۔ایک سوال کے جواب میں نیتن یاھو نے کہا کہ وہ عالمی عدالت انصاف کی طرف سے اسرائیلی سیاسی اور عسکری رہ نمائوں کے خلاف مقدمات کا قیام مضحکہ خیز ہے اور ہم اپنی قیادت کا ہرفورم پردفاع کریں گے۔



کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…