جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

کابل میں یکے بعد دیگرے چار دھماکوں سے گونج اٹھا

datetime 11  مئی‬‮  2020 |

کابل (این این آئی)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں یکے بعد دیگرے چار دھماکوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پولیس حکام کا کہنا تھا کہ چاروں دھماکے سڑک کنارے نصب بارودی مواد کے ذریعے کیے گئے۔کابل پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ دھماکوں میں چار افراد زخمی ہوئے جن میں عام شہری اور بچے بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں

افغانستان میں ایک بار پھر تشدد کی لہر میں اضافہ ہوا ہے جب کہ دارالحکومت کابل سمیت کئی علاقوں میں سڑک کنارے نصب بارودی مواد کے ذریعے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔پیر کو ہونے والے چار دھماکے کئی ماہ بعد کابل میں ایک منظم طریقے سے کیا گیا حملہ ہے۔طالبان نے امریکہ سے فروری میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد کابل میں اس طرح کی کوئی بھی بڑی کارروائی نہیں کی۔ معاہدے کے تحت غیر ملکی افواج نے افغانستان سے آنے والے مہینوں میں انخلا کرنا ہے۔ اسی لیے طالبان نے معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی کارروائیاں ترک کر دی تھیں۔کابل میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری فوری طور پر طالبان یا کسی بھی گروہ نے قبول نہیں کیں۔یہ دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حکام کابل میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد میں مصروف ہیں۔کابل پولیس کے ترجمان فردوس فرامرز کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مواد 10 سے 20 میٹر کے فاصلے پر نصب کیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ کہ دھماکوں میں ایک 12 سالہ بچی بھی زخمی ہوئی ہے جس کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔فردوس فرامرز کا کہنا تھا کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور اس جگہ کی تلاشی لی جا رہی ہے کہ کہیں مزید کسی اور مقام پر تو بارودی مود نصب نہیں کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…