جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ، شدید چپقلش ختم ہونے کا امکان

datetime 2  مئی‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل( آن لائن ) افغان صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبد اللہ عبداللہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ،شدید چپقلش ختم ہونے کا امکان ۔عبداللہ عبداللہ نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ہم نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے اور متعدد اصولوں پر ایک عارضی معاہدے تک پہنچ گئے ہی جبکہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کا کام جاری ہے۔

ٹوئٹر پیغام میں عبداللہ عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں سیاسی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی امید ہے تا کہ ہم تمام تر توجہ کووِڈ 19 پر قابو پانے کے لیے صرف کریں، ایک باعزت اور پائیدار امن کو یقینی بنائیں اور قومی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ معاشی اور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا کریں۔تاہم افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تبصرہ فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔ایک افغان عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کے سامنے ایک کثیر الجہت تجویز پیش کی ہے۔اس پیشکش کے تحت انہیں طالبان کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کی سربراہی اور ساتھیوں کو اعلی سرکاری عہدے دینے کے ساتھ حکومت میں 50 فیصد حصہ چاہیئے۔عہدیدار کے مطابق اس تجویز میں عبداللہ عبداللہ کو ایگزیکٹو وزیراعظم کا عہدہ دینا بھی شامل ہے لیکن اشرف غنی نے اس تجویز کو منظور نہیں کیا۔دوسری جانب اشرف غنی کے دوسرے نائب صدر سرور دانش نے تصدیق کی تھی عبداللہ عبداللہ ملک کی امن کونسل کی سربراہی کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ قومی شراکتی حکومت کے فریم ورک میں عبداللہ عبداللہ کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ادھر امریکی نگرانی کے ادارے کا کہنا تھا کہ افغانستان کو کورونا وائرس کی تباہی کا سامنا ہے۔خیال رہے کہ وہ اس سے قبل اشرف غنی کے ساتھ ہوئے اقتدار کے ایک معاہدے کے تحت افغانستان کے چیف ایگزیکٹو رہ چکے ہیں لیکن گزشتہ برس ہوئے صدارتی انتخابات کے نتیجے میں اس عہدے سے محروم ہوگئے تھے۔انتخابات میں شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے عبداللہ نے اپنے آپ کو صدر قرار دے دیا تھا لیکن بین الاقوامی برادری صرف اشرف غنی کو صدر مانتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…