جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ، شدید چپقلش ختم ہونے کا امکان

datetime 2  مئی‬‮  2020 |

کابل( آن لائن ) افغان صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبد اللہ عبداللہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ،شدید چپقلش ختم ہونے کا امکان ۔عبداللہ عبداللہ نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ہم نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے اور متعدد اصولوں پر ایک عارضی معاہدے تک پہنچ گئے ہی جبکہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کا کام جاری ہے۔

ٹوئٹر پیغام میں عبداللہ عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں سیاسی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی امید ہے تا کہ ہم تمام تر توجہ کووِڈ 19 پر قابو پانے کے لیے صرف کریں، ایک باعزت اور پائیدار امن کو یقینی بنائیں اور قومی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ معاشی اور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا کریں۔تاہم افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تبصرہ فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔ایک افغان عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کے سامنے ایک کثیر الجہت تجویز پیش کی ہے۔اس پیشکش کے تحت انہیں طالبان کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کی سربراہی اور ساتھیوں کو اعلی سرکاری عہدے دینے کے ساتھ حکومت میں 50 فیصد حصہ چاہیئے۔عہدیدار کے مطابق اس تجویز میں عبداللہ عبداللہ کو ایگزیکٹو وزیراعظم کا عہدہ دینا بھی شامل ہے لیکن اشرف غنی نے اس تجویز کو منظور نہیں کیا۔دوسری جانب اشرف غنی کے دوسرے نائب صدر سرور دانش نے تصدیق کی تھی عبداللہ عبداللہ ملک کی امن کونسل کی سربراہی کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ قومی شراکتی حکومت کے فریم ورک میں عبداللہ عبداللہ کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ادھر امریکی نگرانی کے ادارے کا کہنا تھا کہ افغانستان کو کورونا وائرس کی تباہی کا سامنا ہے۔خیال رہے کہ وہ اس سے قبل اشرف غنی کے ساتھ ہوئے اقتدار کے ایک معاہدے کے تحت افغانستان کے چیف ایگزیکٹو رہ چکے ہیں لیکن گزشتہ برس ہوئے صدارتی انتخابات کے نتیجے میں اس عہدے سے محروم ہوگئے تھے۔انتخابات میں شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے عبداللہ نے اپنے آپ کو صدر قرار دے دیا تھا لیکن بین الاقوامی برادری صرف اشرف غنی کو صدر مانتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…