منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت فیوچر پارٹی نے ترک صدر رجب طیب اردوآن کے ملک چلانے کے طریقہ کار کو مسترد کر دیا

datetime 1  مئی‬‮  2020 |

انقرہ ( آن لائن )ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت”فیوچر” پارٹی نے ترک صدر رجب طیب اردوآن کے ملک چلانے کے طریقہ کار کو مسترد کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کے رہ نمائوں کا کہنا ہے کہ وہ ترکی میں فرد واحد کی حکمرانی ختم کرنے کے لیے جدو جہد کررہے ہیں۔ ان کا اشارہ ترک صدر طیب ایردوآن کی جانب تھا جن پر الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ ملک میں آمریت کو فروغ دے رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعت کا کہنا ہے کہ صدر طیب ایردوآن نے اپریل 2017 میں ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد 2018 کے وسط میں عمل میں آنے والے پارلیمانی نظام کو دوسرے صدارتی نظام میں تبدیل کردیا تھا۔ترکی کی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں “ریپبلکن پیپلز پارٹی” اور کرد نواز “ڈیموکریٹک پیپلز” اور “گڈ پارٹی” ترکی میں صدارتی نظام کی مخالف جماعتوں میں شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہیکہ ترکی میں صدر طیب ایردوآن نے اپنی آمریت مسلط کرنے اور فرد واحد کے فیصلوں کے لیے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کیا۔ اس تبدیلی کے بعد صدر مملکت ملک کے مطلق العنان حکمران بن گئے۔ انہیں وسیع اختیارات حاصل ہیں اور وہ پارلیمنٹ سے رجوع کیے بغیر اپنی مرضی کے افسران کا تقرر کرنے کے ساتھ جس وزیر یا افسر کو چاہئیں معزول کرسکتے ہیں۔ترکی کے سابق وزیر اعظم احمد دائود اوگلو اور ان کے نائب علی بابکان نے گذشتہ سال اردوآن کی حکمران ‘جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی’ سے استعفیٰ دینے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کے مطالبات کی حمایت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اپنی الگ جماعت تشکیل دینے کے بعد ملک میں صدارتی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔”مستقبل” پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار ، جس کی بنیاد گذشتہ سال داو اوگلو نے رکھی تھی نے زور دے کر کہا کہ ہماری نئی پارٹی کے سیاسی پروگرام میں ترکے کے موجودہ صدارتی نظام کوپارلیمانی نظان میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ فیوچر پارٹی برائے انسانی حقوق کے نائب سربراہ وحیدالدین اینجہ نے کہا صدارتی نظام ہ تو کوئی قابل قبول حکومتی طریقہ کار ہے اور نہ ہی ترک قوم کو ایسے نظام کی ضرورت ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…