اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت فیوچر پارٹی نے ترک صدر رجب طیب اردوآن کے ملک چلانے کے طریقہ کار کو مسترد کر دیا

datetime 1  مئی‬‮  2020 |

انقرہ ( آن لائن )ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت”فیوچر” پارٹی نے ترک صدر رجب طیب اردوآن کے ملک چلانے کے طریقہ کار کو مسترد کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کے رہ نمائوں کا کہنا ہے کہ وہ ترکی میں فرد واحد کی حکمرانی ختم کرنے کے لیے جدو جہد کررہے ہیں۔ ان کا اشارہ ترک صدر طیب ایردوآن کی جانب تھا جن پر الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ ملک میں آمریت کو فروغ دے رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعت کا کہنا ہے کہ صدر طیب ایردوآن نے اپریل 2017 میں ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد 2018 کے وسط میں عمل میں آنے والے پارلیمانی نظام کو دوسرے صدارتی نظام میں تبدیل کردیا تھا۔ترکی کی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں “ریپبلکن پیپلز پارٹی” اور کرد نواز “ڈیموکریٹک پیپلز” اور “گڈ پارٹی” ترکی میں صدارتی نظام کی مخالف جماعتوں میں شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہیکہ ترکی میں صدر طیب ایردوآن نے اپنی آمریت مسلط کرنے اور فرد واحد کے فیصلوں کے لیے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کیا۔ اس تبدیلی کے بعد صدر مملکت ملک کے مطلق العنان حکمران بن گئے۔ انہیں وسیع اختیارات حاصل ہیں اور وہ پارلیمنٹ سے رجوع کیے بغیر اپنی مرضی کے افسران کا تقرر کرنے کے ساتھ جس وزیر یا افسر کو چاہئیں معزول کرسکتے ہیں۔ترکی کے سابق وزیر اعظم احمد دائود اوگلو اور ان کے نائب علی بابکان نے گذشتہ سال اردوآن کی حکمران ‘جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی’ سے استعفیٰ دینے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کے مطالبات کی حمایت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اپنی الگ جماعت تشکیل دینے کے بعد ملک میں صدارتی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔”مستقبل” پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار ، جس کی بنیاد گذشتہ سال داو اوگلو نے رکھی تھی نے زور دے کر کہا کہ ہماری نئی پارٹی کے سیاسی پروگرام میں ترکے کے موجودہ صدارتی نظام کوپارلیمانی نظان میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ فیوچر پارٹی برائے انسانی حقوق کے نائب سربراہ وحیدالدین اینجہ نے کہا صدارتی نظام ہ تو کوئی قابل قبول حکومتی طریقہ کار ہے اور نہ ہی ترک قوم کو ایسے نظام کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…