اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت فیوچر پارٹی نے ترک صدر رجب طیب اردوآن کے ملک چلانے کے طریقہ کار کو مسترد کر دیا

datetime 1  مئی‬‮  2020 |

انقرہ ( آن لائن )ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت”فیوچر” پارٹی نے ترک صدر رجب طیب اردوآن کے ملک چلانے کے طریقہ کار کو مسترد کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کے رہ نمائوں کا کہنا ہے کہ وہ ترکی میں فرد واحد کی حکمرانی ختم کرنے کے لیے جدو جہد کررہے ہیں۔ ان کا اشارہ ترک صدر طیب ایردوآن کی جانب تھا جن پر الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ ملک میں آمریت کو فروغ دے رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعت کا کہنا ہے کہ صدر طیب ایردوآن نے اپریل 2017 میں ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد 2018 کے وسط میں عمل میں آنے والے پارلیمانی نظام کو دوسرے صدارتی نظام میں تبدیل کردیا تھا۔ترکی کی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں “ریپبلکن پیپلز پارٹی” اور کرد نواز “ڈیموکریٹک پیپلز” اور “گڈ پارٹی” ترکی میں صدارتی نظام کی مخالف جماعتوں میں شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہیکہ ترکی میں صدر طیب ایردوآن نے اپنی آمریت مسلط کرنے اور فرد واحد کے فیصلوں کے لیے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کیا۔ اس تبدیلی کے بعد صدر مملکت ملک کے مطلق العنان حکمران بن گئے۔ انہیں وسیع اختیارات حاصل ہیں اور وہ پارلیمنٹ سے رجوع کیے بغیر اپنی مرضی کے افسران کا تقرر کرنے کے ساتھ جس وزیر یا افسر کو چاہئیں معزول کرسکتے ہیں۔ترکی کے سابق وزیر اعظم احمد دائود اوگلو اور ان کے نائب علی بابکان نے گذشتہ سال اردوآن کی حکمران ‘جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی’ سے استعفیٰ دینے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کے مطالبات کی حمایت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اپنی الگ جماعت تشکیل دینے کے بعد ملک میں صدارتی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔”مستقبل” پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار ، جس کی بنیاد گذشتہ سال داو اوگلو نے رکھی تھی نے زور دے کر کہا کہ ہماری نئی پارٹی کے سیاسی پروگرام میں ترکے کے موجودہ صدارتی نظام کوپارلیمانی نظان میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ فیوچر پارٹی برائے انسانی حقوق کے نائب سربراہ وحیدالدین اینجہ نے کہا صدارتی نظام ہ تو کوئی قابل قبول حکومتی طریقہ کار ہے اور نہ ہی ترک قوم کو ایسے نظام کی ضرورت ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…