جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس امریکی جنگی بحری بیڑے پر بھی پہنچ گیا 4ہزار سے زائد اہلکاروں کی زندگیاں داؤپر

datetime 1  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن( آن لائن )امریکہ کے جنگی بحری بیڑے روزویلٹ پر کرونا وائرس کے شکار اہلکاروں کی موجودگی سے امریکی بحری فوج کے 4ہزار سے زائد اہلکاروں کی زندگیاں دا پر لگ گئیںجہاز کے کپتان نے فوری مدد کے لیے پینٹاگون کو خط لکھ دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل ایک خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے اور کرونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے.ایک امریکی جریدے نے بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا ہے خط کے متن کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئر نے کہا ہے کہ ہم حالت جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں سیلرز اپنی جانیں دیں.انہوں نے کہا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے کپتان نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سیلرز کی بیڑے پر موجودگی بہت بڑا خطرہ ہے.امریکہ کے وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے اس تاثر کی نفی کی کہ وہ بحری بیڑے سے سیلرز کو کسی دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ فی الحال وہ اس نتیجے پر نہیں پہنچے ہیںانہوں نے کہا کہ طبی امداد اور دیگر ضروری اشیا روزویلٹ کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں اور سیلرز کی دیکھ بھال کے لیے اضافی طبی عملہ بھی بھجوایا جا رہا ہے۔

مارک ایسپر نے کہا کہ بحری بیڑے پر موجود کسی بھی سیلر کی جان خطرے میں نہیں ہے بحریہ وائرس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ٹیسٹ کٹس بھجوا دی گئی ہیں.ادھر جریدے نے بحری بیڑے کے کپتان کے خط کی اشاعت کے ساتھ یہ دعوی بھی کیا تھا کہ روزویلٹ پر موجود 100 سے زائد سیلرز کرونا وائرس کے شکار ہو چکے ہیں تاہم امریکی بحریہ نے خط کے متن کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے.اس خط سے متعلق نیویارک ٹائمز بھی خبر شائع کر چکا ہے بحریہ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحری بیڑے کے کپتان کروزیئر نے اپنے خط میں بیڑے پر مسائل اور خدشات سے خبردار کیا ہے.حکام کا کہنا ہے کہ نیوی کی قیادت بیڑے کے عملے کی صحت اور تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور کمانڈر افسر نے جن تحفظات کا ذکر کیا ہے اسے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے.#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…