ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس امریکی جنگی بحری بیڑے پر بھی پہنچ گیا 4ہزار سے زائد اہلکاروں کی زندگیاں داؤپر

datetime 1  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن( آن لائن )امریکہ کے جنگی بحری بیڑے روزویلٹ پر کرونا وائرس کے شکار اہلکاروں کی موجودگی سے امریکی بحری فوج کے 4ہزار سے زائد اہلکاروں کی زندگیاں دا پر لگ گئیںجہاز کے کپتان نے فوری مدد کے لیے پینٹاگون کو خط لکھ دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل ایک خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے اور کرونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے.ایک امریکی جریدے نے بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا ہے خط کے متن کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئر نے کہا ہے کہ ہم حالت جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں سیلرز اپنی جانیں دیں.انہوں نے کہا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے کپتان نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ سیلرز کی بیڑے پر موجودگی بہت بڑا خطرہ ہے.امریکہ کے وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے اس تاثر کی نفی کی کہ وہ بحری بیڑے سے سیلرز کو کسی دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ فی الحال وہ اس نتیجے پر نہیں پہنچے ہیںانہوں نے کہا کہ طبی امداد اور دیگر ضروری اشیا روزویلٹ کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں اور سیلرز کی دیکھ بھال کے لیے اضافی طبی عملہ بھی بھجوایا جا رہا ہے۔

مارک ایسپر نے کہا کہ بحری بیڑے پر موجود کسی بھی سیلر کی جان خطرے میں نہیں ہے بحریہ وائرس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ٹیسٹ کٹس بھجوا دی گئی ہیں.ادھر جریدے نے بحری بیڑے کے کپتان کے خط کی اشاعت کے ساتھ یہ دعوی بھی کیا تھا کہ روزویلٹ پر موجود 100 سے زائد سیلرز کرونا وائرس کے شکار ہو چکے ہیں تاہم امریکی بحریہ نے خط کے متن کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے.اس خط سے متعلق نیویارک ٹائمز بھی خبر شائع کر چکا ہے بحریہ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحری بیڑے کے کپتان کروزیئر نے اپنے خط میں بیڑے پر مسائل اور خدشات سے خبردار کیا ہے.حکام کا کہنا ہے کہ نیوی کی قیادت بیڑے کے عملے کی صحت اور تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور کمانڈر افسر نے جن تحفظات کا ذکر کیا ہے اسے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے.#/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…