ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں 14 گھنٹوں کا جنتا کرفیو، پھر بھی کرونا وائرس بے قابو، مودی سرکار کا کرفیو مزید 15 دن تک بڑھانے کا فیصلہ

datetime 22  مارچ‬‮  2020 |

نئی دہلی(آن لائن) بھارت میں وزیر اعظم کی اپیل پر 22 مارچ کو ملک بھر میں کورونا وائرس سے احتیاط کے پیش نظر جنتا کرفیو کے باعث عوام گھروں تک ہی محدود رہا جب کہ تمام کاروبار اور ٹرانسپورٹ بھی بند رکھی گئی۔بھارتی حکومت نے قانونی طور پر کرفیو کا اعلان نہیں کیا تھا، تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں عوام سے محض 14 گھنٹے کے لیے گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی تھی۔

نریندر مودی نے 21 مارچ کی شب عوام سے اپنے مختصر خطاب میں لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 22 مارچ کی صبح سے لے کر رات 9 بجے تک گھروں میں محدود رہیں تاکہ پورا ملک محفوظ بن سکے۔وزیر اعظم نے عوام سے خطاب میں جنتا کرفیو کا لفظ استعمال کرتے ہوئے عوام پر واضح کیا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت انہیں مجبور نہیں کر رہی کہ وہ گھروں میں قید ہوں بلکہ حکومت ان سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر گھروں تک محدود رہیں۔بھارتی وزیر اعظم کی اپیل پر 22 مارچ کو ہندوستان بھر میں جنتا کرفیو نافذ رہا اور تقریبا ملک کے تمام بڑے شہروں میں کاروبار بھی بند رہا جب کہ عوامی ٹرانسپورٹ بھی روڈوں پر نظر نہ آئی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر عوام نے 22 مارچ کی صبح سے ہی خود کو گھروں تک محدود کرلیا جب کہ روڈوں پر ٹرانسپورٹ بھی نہیں دیکھی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کے بڑے شہروں میں کاروبار بھی مکمل طور پر بند رہا، جب کہ مندر بھی خالی دکھائی دیے اور لوگ کسی بھی کام کے لیے مجمع کے صورت میں کہیں بھی دکھائی نہیں دیے۔جنتا کرفیو کے آغاز کے بعد ہی نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں عوام سے ایک بار پھر گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی اور انہوں نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ وہ لوگ اس کرفیو میں گھروں سے نکل سکتے ہیں جو عوامی ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔رائٹرز کے مطابق بھارت بھر میں جنتا کرفیو نافذ رہا

اور نئی دہلی، ممبئی، بنگلورو، پونا، حیدرآباد سمیت تمام شہروں میں کاروبار بند رہا جب کہ روڈوں پر عوامی ٹرانسپورٹ بھی دکھائی نہیں دی۔ملک کے معاشی حب ممبئی میں نہ صرف عام کاروبار بند رہا بلکہ فیکٹریوں کی بھی بندش رہی جب کہ دفاتر بھی بند رکھے گئے۔اگرچہ عام طور پر بھارت میں اتوار کے دن عام تعطیل ہوتی ہے تاہم پھر بھی کئی کاروبار مراکز، دفاتر اور عوامی مقامات کھلے رہتے ہیں لیکن 22 مارچ کو تمام معمولات زندگی معطل رہی، تاہم اس باوجود 22 مارچ کو بھارت سے نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد بھارت میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 370 تک جا پہنچی۔

دوسری جانب انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 22 مارچ کے کامیاب جنتا کرفیو کے بعد مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے کرفیو کو مزید 15 دن تک بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔رپورٹ میں حکومتی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے مشترکہ طور پر کم سے کم 31 مارچ تک کرفیو کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیصلے کے مطابق 31 مارچ تک بھارت کے 75 اضلاع میں کرفیو رہے گا، تاہم اضلاع کا اعلان خود ریاستی حکومتیں کریں گی۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ کرفیو ان ہی اضلاع میں لگایا جائے گا جہاں سے کورونا کے کیسز سامنے آئے ہیں۔کرفیو کو ریاست اترپردیش، مہاراشٹر، کیرالہ، کرناٹکا، تامل ناڈو اور پنجاب سمیت دیگر چند ریاستوں کے متعدد اضلاع سمیت مرکزی حکومت کے ماتحت علاقوں میں بھی نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…