جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں کرونا وائرس کے باعث مساجد بھی بند مسجدکے باہر بیٹھے شخص کی رقت آمیز دُعاسب کی توجہ کا مرکز بن گئی

datetime 18  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس کے پھیلا ئو کو روکنے کے سبب سعودی حکومت نے تمام مساجدمیں با جماعت نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کی ۔ تمام نمازیوں کو گھر وں پر نماز ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ مساجد کے بند ہونے کی وجہ سے تمام امت مسلمہ انتہائی غمزدہ ہے ۔ سوشل میڈیا پر ایک تصاویر گردش کر رہی ہے کہ ایک شخص ریاض کی بند مسجد کے باہر بیٹھ کر بلند آواز کیساتھ دعا مانگ رہا ہے

اور ساتھ ساتھ رو بھی رہا ہے ۔ شلوار قمیض میں ملبوس یہ شخص بظاہر پاکستان سے لگتا ہے تاہم اس بارے میں ابھی تک کوئی تصدیق نہیںہو سکی ہے ۔ المرصد اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک غیر ملکی ریاض کی بند مسجد کے باہر بیٹھا رو رو کر دعا کر رہا ہے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تصاویر شیخ حامد الذیر مسجد کے موذن معاذ القحطانی نے اپنے موبائل کھینچ کر سوشل میڈیا پر ڈال دی ۔ موذن معاذ القحطانی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ تحریر کیا ہے ”یہ کارکن میری مسجد میں ہونے والی تمام نمازیں باجماعت ادا کرتا رہا ہے۔ہم سب اللہ کے آگے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اس سے مغفرت کے طلب گار ہیں“۔ واضح رہے کہ سعود عرب کے اعلان کے بعد ملک بھر میں اجتماع پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…