جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تلاش جاری، اسے کیوں ڈھونڈا جا رہا ہے؟ حیرت انگیز بات سامنے آ گئی

datetime 14  مارچ‬‮  2020 |

بیجنگ (این این آئی)نئے نوول کورونا وائرس کا پہلا مریض کب سامنے آیا تھا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب جاننے کے لیے چینی حکومت بھرپور کوشش کررہی ہے۔اور ایسا لگتا ہے کہ اس وائرس کا پہلا کیس 17 نومبر کو سامنے آیا تھا۔یہ بات چینی اخبارنے چینی حکومت کے کورونا وائرسز کے کیسز کے تجزیے کے حوالے سے بتائی۔نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے اب تک چینی حکام ایسے 266 افراد کو شناخت کرچکے ہیں

جن میں اس کی تشخیص گزشتہ سال ہوئی تھی اور وہ کسی مرحلے میں طبی عمل سے گزرے تھے۔ان میں سے کچھ کیسز کی تاریخ پہلے کی ہوسکتی ہے کیونکہ چینی ڈاکٹروں نے دسمبر میں اس بات کا احساس کیا تھا کہ وہ کسی نئے مرض کا سامنا کررہے ہیں۔سائنسدانوں کی جانب سے کووڈ 19 کے ابتدائی پھیلاؤ کا نقشہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لیے زیرو پیشنٹ(پہلے مریض)کی تلاش ہورہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ چین کے صوبہ ہوبے ووہان جس کا صدر مقام ہے جہاں سے یہ وائرس پھیلنا شروع ہواکا ایک 55 سالہ مرد اس کا پہلا مریض تھا، تاہم یہ شواہد دوٹوک نہیں۔یہ جاننے کے لیے مرض کیسے پھیلا اور کس طرح تشخیص یا نامعلوم کیسز نے اس کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، اس خطرے کے حجم کو سمجھنے میں مدد دے گا۔اس کے بعد روزانہ ایک سے 5 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 15 دسمبر تک کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد 27 تک پہنچ گئی تھی جبکہ 17 دسمبر کو پہلی بار 10 کیسز رپورٹ ہوئے اور 20 دسبمر کو مصدقہ کیسز کی تعداد 60 تک پہنچ گئی تھی۔27 دسمبر کو ہوبے پرویژنل ہاسپٹل آف انٹیگرٹیڈ کے ڈاکٹر زینگ جی شیان نے چینی طبی حکام کو اس نئے کورونا وائرس سے ہونے والے مرض کے بارے میں بتایا تھا، جب تک مریضوں کی تعداد 180 سے زائد ہوچکی تھی، مگر اس وقت بھی ڈاکٹروں کو اس کے حوالے سے زیادہ شعور نہیں تھا۔رپورٹ کے مطابق چینی حکومت کا یہ ریکارڈ عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا،

مگر اس سے ابتدائی دنوں میں مرض کے پھیلا ؤکی رفتار کے بارے میں اہم سراغ ملتے ہیں اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک چین میں کتنے کیسز رپورٹ ہوچکے تھے۔سائنسدان اس پہلے مرض کی تلاش اس لیے بھی کرنا چاہتے ہیں تاکہ نئے کورونا وائرس کا باعث بننے والے ذریعے کا سراغ لگایا جاسکے، جس کے بارے میں ابھی سوچا جاتا ہے کہ یہ کسی جانور جیسے چمگادڑ سے ایک اور جانور میں گیا اور پھر انسانوں میں منتقل ہوگیا۔نومبر میں رپورٹ ہونے والے 9 کیسز میں سے 4 مرد تھے

اور 5 خواتین، ان میں سے فی الحال کسی کی بھی زیرو پیشنٹ کے طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ان سب کی عمریں 39 سے 79 سال کے درمیان تھیں مگر اب بھی یہ معلوم نہیں کہ ان میں سے ووہان کے رہائشی کتنے تھے۔حکومتی ڈیٹا کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے کیسز نومبر سے بھی پہلے رپورٹ ہوئے ہوں جن کی تلاش کا کام ہورہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے مطابق چین میں کووڈ 19 کا پہلا مصدقہ کیس 8 دسمبر کو سامنے آیا تھا مگر یہ بھی واضح ہے کہ عالمی ادارہ کسی مرض کی بنیاد کا سراغ خود نہیں لگاتا بلکہ ممالک کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرتا ہے۔جریدے دی لانسیٹ میں ووہان کے جن ین تان ہاسپٹل کی تحقیق میں اولین مریضوں کی تاریخ یکم دسمبر دی گئی ہے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…