جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

بھارت میں تشدد کے ان گنت واقعات ، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تہلکہ خیز رپورٹ جاری کر دی

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی)ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے، بھارت میں تشدد کی آگ بھڑکانے کا ذمہ دار ان سیاسی قائدین کو ٹھہرایا ہے، جو نفرت انگیز تقاریر کر کے پرتشدد ماحول پیدا کررہے ہیں۔ ایمنسٹی نے ان کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق نئی دہلی اور بینگلور سے شائع ہونے والی ایمنسٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیاکہ نئی دہلی کے شمال مشرقی حصے میں

ہونے والے فسادات میں اب تک بتیس سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ  100 سے زیادہ زخمی ہیں۔ جامعہ ملیہ یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہونے والے پر تشدد واقعات اور ان سے پہلے رونما ہونے والے ایسے ہی فسادات کے پیچھے بھی سیاسی رہنماں کی نفرت انگیز تقاریر کا ہاتھ تھا۔ انوراگ ٹھاکر جیسے مرکزی وزرا سے لے کر یوگی آدتیہ ناتھ جیسے وزرائے اعلی تک، منتخب نمائندوں نے لوگوں سے غداروں کو گولی مارنے اور انتقام لینے کا مطالبہ کیا، یہ بات حیران کن ہے کہ دسمبر 2019  سے اب تک ایک بھی منتخب نمائندے کے خلاف نفرت اور تشدد کی حمایت کرنے کے الزام میں قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ فروری 2020  میںکرناٹک میں ایک وزیر نے مطالبہ کیا کہ پولیس کو مظاہرین کو گولی مارنے کی اجازت دینے کے لیے ایک قانون پاس کیا جائے۔ یہ ایک ایسا استثنی ہے، جس سے سیاسی قائدین لطف اندوز ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اور دیگر غیر ریاستی عناصر مزید تشدد کی تحریک دیتے ہیں۔ یہ بات اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب سی ای اے اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی)کی مخالفت کرنے والوں کو گولی مارنے یا ان پر حملہ کرنے کے بعد مشتعل افراد سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہیں کہ دے دی آزادی (ہم نے انہیں آزادی دی ہے)۔ دہلی میں فسادات سے ایک دن پہلے، بی جے پی کے ایک رہنما، کپل مشرا نے دہلی پولیس کو الٹی مٹم دیا تھا کہ وہ جعفرآباد میں پرامن مظاہرین کے زیر قبضہ علاقہ خالی کرائیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے مطابق دسمبر 2019  سے سیاسی قائدین کی طرف سے کی جانے والی نفرت انگیز تقاریر پر بھارتی وزیر اعظم نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ وزیر اعظم کو آگے بڑھ کر شر پسندوں کی سرکوبی کا اعلان کرتے ہوئے نفرت انگیزی کی کھلے الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے۔ اس طرح کی تقاریر میں فوری، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی بھی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے حال اور ماضی  میں تشدد جاری رہا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اویناش کمار نے کہا کہ طویل عرصے سے جاری اس استثنی کو اب ختم ہوناچاہیے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…