جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

انتہا پسند بھا رتی حکو مت نے نئے کشمیر کے خاکے کو حتمی شکل دینے پر صلاح ومشورہ تیز کر دیا ، اہم فیصلے بھی سامنے آگئے

datetime 26  فروری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سرینگر ( آن لائن ) بی جے پی کی قیادت میں ہندتوا حکومت ، نازی نظریہ سے متاثر ہوکر مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بدلنے کے لئے ہر حد کو عبور کر چکی ہے۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے اپنے نئے کشمیر کے خاکے کو حتمی شکل دینے پر صلاح ومشورہ تیز کر دیا ہے ۔

جس کے تحت جموں، ادھمپور، پونے، دہلی اور دیگر شہروں میں تین دہائیوں سے مقیم کشمیری پنڈتوں کے لیے وادی میں خصوصی ٹاون شپ قائم کیے جائیں گے۔1990 سے وادی کشمیر سے باہر رہنے والے پنڈت خاندانوں کی کشمیر واپسی کے لیے بھارتی حکومت نے کوششیں تیز کر دی ہے۔ ہندوستان کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں ہندو وں کی آبادکاری کے لئے دس علیحدہ علاقے مختص کئے ہیں۔اس نئے خاکے کے مطابق مہاجر پنڈتوں کے لیے بنائی جانے والی یہ علیحدہ بستیاں وادی کشمیر کے 10 اضلاع میں قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان خصوصی بستیوں میں پنڈت خاندانوںکے لیے مکانات تعمیر کیے جانے کے ساتھ ساتھ ہسپتال بھی بنائے جائیں گے جبکہ ان میں مارکیٹ کی سہولیات بھی رکھی جائیں گی۔نئے کشمیر بلیو پڑنٹ کے مطابق مخصوص بستیوں کے نزدیک خصوصی سیکورٹی کے انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے پولیس اور سیکورٹی فورسز کی مشترکہ چوکیوں کا قیام بھی عمل میں لانے کے قوی امکانات ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گزشتہ ہفتے نئی دلی میں کشمیری پنڈتوں کے ایک وفد کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ مرکزی سرکار مہاجر پنڈتوں کی کشمیر واپسی اور بازآبادکاری کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہے۔

ہندوستان کے وزیر داخلہ نے اعلان کیا تھاکہ دہلی کی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندووں کو الگ بستی فراہم کرے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے۔اس سے قبل ہندوستان غیر کشمیری سرمایہ کاروں کے لئے 60000کنال اراضی پہلے ہی فراہم کرچکی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سرکاری فرنٹ مین وہ زمین خریدیں گے۔ایک ہندو مندر کو بھی 1000 کنال اراضی فراہم کی گئی ہے۔ جموں میں مسلمانوں سے 4 ہزار کنال سے زیادہ اراضی ہتھیائی گئی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…