جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

رفیق حریری کوکس نے قتل کیا؟بڑا انکشاف سامنے آگیا

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ لبنان کے سابق رہ نما رفیق حریری کو ایک ایسے گروپ نے قتل کیا جس کی تربیت ایران کی طرف سے کرائی گئی تھی۔ یہ قتل ایرانی حمایت یافتہ ایک باغی گروپ نے کیا۔عرب ٹی وی کے مطابق ٹویٹر پر پوسٹ کردہ متعدد ٹویٹس میں خالد بن سلمان نے مقتول رفیق حریری کی لبنان کے لیے

خدمات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اصلاح پسند قومی رہنما تھے۔ انہوں نے لبنان میں تعمیر نو اور استحکام کے حصول کا بیڑا اٹھایا مگر باغی ایران نواز ملیشیا نے ان کی جان لے لی۔شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ ایرانی ملیشیا نے 15 سال قبل رفیق حریری کو مار ڈالا۔ وہ ایک اصلاح پسند قومی رہنما تھے جنہوں نے اپنے وطن میں تعمیر نو اور استحکام کے سفر کی قیادت کی۔ اپنے ہزاروں لوگوں کو فرقہ واریت سے نکالا۔ انہیں ایرانی غدار ملیشیا نے قتل کردیا تھا۔ یہ ایسا گروہ تھا جو صرف تباہی اور قتل و غارت گری پر یقین رکھتا ہے۔انہوں نے یہ بھی مزید کہا کہ رفیق اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے۔ان کا وژن اور قومی منصوبہ ملک کے استحکام ، خوشحالی اور بقائے باہمی پر مبنی تھاہمیشہ قائم رہے گا۔قابل ذکر ہے کہ جمعہ کے روز اپنے والد کے قتل کی پندرہویں برسی کے موقع پر سابق وزیر اعظم سعد حریری نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم حریری کا قتل لبنان کی زندگی کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا اور 15 سال بعد لبنان آج ایک نئے موڑ کا سامنا کر رہا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…