پیر‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2024 

چین میں کرونا وائرس سے ہر طرف تباہی و بربادی کے مناظر ،چینی صدر مسجد جا پہنچے، جانتے ہیں مسلمانوں سے کونسی چھوٹی سی خواہش کردی؟

datetime 5  فروری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے صدر شی جن پنگ کا مقامی مسجد کا دورہ ، مسلمانوں سے درخواست کی کروناوائرس کے خاتمے کے لئے دعا کریں۔ تفصیلات کے مطابق چینی صدر کے دورے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں انہیں مقامی مسلمانوں سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر نے درخواست کی ہے کہ مسلمان چین میں کرونا وائرس کے خاتمے کے لئے دعا کریں۔دوسری جانب چین کے شہر ووہان سے شروع ہوکر دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل جانے والے 2019 نوول کورونا وائرس کے بارے میں حالیہ دنوں میں سائنسدان یہ خیال ظاہر کرچکے ہیں کہ یہ چمگادڑ سے کسی اور جانور میں گیا اور پھر انسانوں میں منتقل ہوا۔اب طبی جریدے جرنل نیچر میں شائع کئی تحقیقی رپورٹس کے مجموعے میں اس خیال کی حمایت کی گئی ۔تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ چین میں پھیلنے والے نئے کورونا وائرس 2000 کی دہائی میں سامنے آنے والے سارز وائرس سے ملتا جلتا نظر آتا ہے اور دونوں کا 80 فیصد جینیاتی کوڈ شیئر ہوتا ہے اور یہ دونوں چمگادڑوں سے آگے بڑھے۔پہلی تحقیق ووہان انسٹیٹوٹ آف وائرلوجی کے ماہرین کی قیادت میں ہوئی جس میں 7 مریضوں سے وائرس نمونے حاصل کیے گئے جن میں شدید نمونیا کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ان میں سے 6 مریض ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ میں کام کرتے تھے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہاں سے یہ وائرس دسمبر میں پھیلنا شروع ہوا۔ان مریضوں کے 70 فیصد نمونے لگ بھگ یکساں تھے اور ان کا جینیاتی سیکونس سارز سے 79.5 فیصد تک ملتا جلتا تھا۔

تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے بھی دریافت کیا کہ نوول کورونا وائرس چینی چمگادڑوں کی نشل میں پھیلنے والے دیگر کورونا وائرسز جیسا تھا اور 95 فیصد جینیاتی کوڈ میچ کرگیا۔انہوں نے 7 وائرس نمونوں کا تجزیہ کرنے کے بعد ثابت کیا کہ سارز اور نیا کورونا وائرس پھہپھڑوں میں موجود ایک ہی ریسیپٹر اے سی ای 2 میں جگہ بناتے ہیں اور اسی وجہ سے مریضوں میں نمونیے جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔دوسری تحقیق میں شنگھائی کی فودان یونیورسٹی اور چائنیئز سینٹر فار ڈیزیز اینڈ پریونٹیشن نے ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ کے ایک 41 سالہ مریض کا معائنہ کیا جو 26 دسمبر کو ووہان ہاسپٹل میں سانس کے مرض اور بخار کی علامات کے ساتھ آیا تھا۔

اس شخص میں موجود وائرس کے تجزیے سے ثابت ہوا کہ یہ سارز جیسے کورونا وائرسز سے 89 فیصد تک ملتا جلتا ہے ۔چونکہ سارز اور 2019 نوول کورونا وائرس انسانی خلیات میں ایک ہی طریقے سے داخل ہوتے ہیں تو ان تحقیقی رپورٹس میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ سارز کا ممکنہ طریقہ علاج نئے کورونا وائرس کے لیے بھی شاید کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔سارز یا اس نئے کورونا وائرس کا کوئی مخصوص طریقہ علاج یا ویکسین موجود نہیں مگر سائنسدان سارز کے لیے ادویات اور پری کلینیکل ویکسینز پر کافی عرصے سے کام کررہے ہیں اور ممکنہ طور پر اس نئے وائرس پر کام کرسکتے ہیں۔تاہم فی الحال یہ صرف خیال ہے اور اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔تاہم دونوں تحقیقی رپورٹس میں اب تک یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ کس جانور نے نئے کورونا وائرس کو چمگادڑ سے انسانوں تک پہنچانے کا کام کیا، تاہم پہلی تحقیق میں اس حوالے سے چند اشارے دیئے گئے ہیں۔

موضوعات:



کالم



ہرقیمت پر


اگرتلہ بھارت کی پہاڑی ریاست تری پورہ کا دارالحکومت…

خوشحالی کے چھ اصول

وارن بفٹ دنیا کے نامور سرمایہ کار ہیں‘ یہ امریکا…

واسے پور

آپ اگر دو فلمیں دیکھ لیں تو آپ کوپاکستان کے موجودہ…

امیدوں کے جال میں پھنسا عمران خان

ایک پریشان حال شخص کسی بزرگ کے پاس گیا اور اپنی…

حرام خوری کی سزا

تائیوان کی کمپنی گولڈ اپالو نے 1995ء میں پیجر کے…

مولانا یونیورسٹی آف پالیٹکس اینڈ مینجمنٹ

مولانا فضل الرحمن کے پاس اس وقت قومی اسمبلی میں…

ایس آئی ایف سی کے لیےہنی سنگھ کا میسج

ہنی سنگھ انڈیا کے مشہور پنجابی سنگر اور ریپر…

راشد نواز جیسی خلائی مخلوق

آپ اعجاز صاحب کی مثال لیں‘ یہ پیشے کے لحاظ سے…

اگر لی کوآن یو کر سکتا ہے تو!(آخری حصہ)

لی کو آن یو اہل ترین اور بہترین لوگ سلیکٹ کرتا…

اگر لی کوآن یو کر سکتا ہے تو!

میرے پاس چند دن قبل سنگا پور سے ایک بزنس مین آئے‘…

سٹارٹ اِٹ نائو

ہماری کلاس میں 19 طالب علم تھے‘ ہم دنیا کے مختلف…