بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھارت نے کشمیر پر بھارتی موقف کی حمایت کی شرط پر کیا پیشکش کی؟ ذاکر نائیک نے مودی سرکار کا چہرہ بے نقاب کردیا

datetime 11  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(سائوتھ ایشین وائر)اسلامی مبلغ ذاکر نائک نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرقیادت حکومت نے ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دینے کے حکومتی اقدام کی حمایت کے بدلے میں “ہندوستان آنے کے لئے محفوظ راستہ” فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔

ہفتے کے روز ذاکر نائیک کے تعلقات عامہ کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ، اسلامی مبلغ نے کہا کہ ان سے ستمبر میں ہندوستانی حکومت کے ایک نمائندے نے رابطہ کیا تھا ، جس نے ان سے کشمیر کے بارے میں حکومتی موقف کی حمایت کرنے پر مذکورہ معاہدے کی پیش کش کی تھی ، جس سے انہوں نے انکار کردیا ۔ساوتھ ایشین وائر کے رابطہ کرنے پر ان کے دفتر سے بتایا گیا کہ ساڑھے تین ماہ قبل ، ہندوستانی عہدیداروں نے ان سے ہندوستانی حکومت کے نمائندے کے ساتھ نجی ملاقات کے لئے رابطہ کیا۔ جب وہ ستمبر 2019 کے چوتھے ہفتے میں ان سے ملنے کے لئے ملائیشین شہرپوٹراجیا آئے تو انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ملاقات کے لئے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور ہندوستان کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایت کے تحت آرہے ہیں۔سائوتھ ایشین وائر کے مطابق پچھلے تین برس سے ملائشیا میں مقیم ذاکر نائک کو ہندوستان میں فرقہ وارانہ بد نظمی کو بھڑکانے اور غیرقانونی سرگرمیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔انہیں جولائی 2016 کو ڈھاکہ میں ہولی آرٹیسن بیکری میں دہشت گردی کے حملے کے سلسلے میں ہندوستان اور بنگلہ دیش دونوں میں تحقیقات کا سامنا ہے۔بیان میں ذاکر نائک نے مزید کہا کہ ہندوستانی نمائندے نے کہا کہ وہ ذاکر نائک اور ہندوستانی حکومت کے مابین غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں  اور ہندوستان جانے کے لئے ایک محفوظ راستہ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

مزید یہ کہ وہ ہندوستان اور دیگر مسلم ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے میرے رابطوں کو استعمال کرنا چاہیں گے۔سائوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملاقات کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370کے کالعدام قرار دینے کے سلسلے میں بی جے پی حکومت کی حمایت کروں جس پر میں نے صاف انکار کردیا۔نائک نے کہا کہ ان کی پیش کش سے انکار کے بعد ان سے مزید کہا گیا کہ وہ بی جے پی یا وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف عوامی بیانات نہ دیں۔سائوتھ ایشین وائر کے مطابق نائک نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ہندوستانی مسلم قائدین جنہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ یا شہریوں کے قومی رجسٹرار کی حمایت میں بیانات جاری کیے، انہیں لازمی طور پر بلیک میل یا مجبور کیا گیاہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…