جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

قاسم سلیمانی کس مشن پر تھے ؟ایرانی جنرل کی عراقی وزیر اعظم سے آخری ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی

datetime 8  جنوری‬‮  2020 |

تہران( آن لائن ) عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا کہنا ہے کہ ہم نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی اور جنرل قاسم سلیمانی ایران کی طرف سے پیغام رسانی کا کام کر رہے تھے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کے مشیر حسام الدین آشنا کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی وزیراعظم کی ملاقات بھی ہوئی تھی۔حسام الدین آشنا کے مطابق ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے بھی کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے سفارتی پیغامات لے جاتے تھے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دعوی کیا ہے کہ ایسا کوئی پیغام نہیں تھا کیوں کہ میں نے خود سعودی حکام سے بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد میں نشانہ بنایا تو وہ کوئی پیغام پہنچانے نہیں جا رہے تھے۔خیال رہے کہ گزشتہ جمعے امریکہ نے عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد ایئرپورٹ سے نکلتے وقت نشانہ بنایا گیا۔ ڈرون حملے میں آٹھ افراد ہو گئے تھے۔امریکی محکمہ دفاع نے اس حملے کے جواز میں کہا تھا کہ جنرل سلیمانی عراق میں امریکی سفارتکاروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ جنرل قاسم سلیمانی اور ان کی فوجیں سینکڑوں امریکیوں کی ہلاکت اور ہزاروں کو زخمی کرنے میں ملوث تھے۔جنرل قاسم سلیمانی کے ہلاکت کے رد عمل میں سعودی حکومت کے اعلی عہدیدار نے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بین الاقوامی میڈیا کو بتایا تھا کہ امریکہ نے اس کارروائی سے قبل سعودی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ دونوں ممالک کو کسی بھی ایسے عمل سے اجتناب کرنا چاہیے جو کشیدگی کا باعث بنے۔جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد خطے کے صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی تھی۔ پاکستان، روس چین اور سعودی عرب سمیت عالمی طاقتوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…