جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارتی آرمی چیف مسلمانوں اور عیسائیوں سے دشمنی کے لیے مشہور ناگالینڈ میں 11مسیحی لڑکیوں سے زیادتی کا الزام ، مودی سرکار نے کس خاص مقصد کے تحت آرمی چیف مقرر کیا ؟ حیرت انگیز انکشافات سامنے آگئے

datetime 3  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکونڈ روان عیسائی لڑکیوں کی عصمت دری میں ملوث نکلے۔جنرل منوج پرناگا لینڈ کی 11عیسائی لڑکیوں کی عصمت دری کا الزام ہے۔ تفصیلات کے مطابق 1991میں جنرل منوج ناگا لینڈ میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے ۔روزنامہ خبریں کےمطابق ناگا لینڈ میں تعیناتی کے دوران بھارتی آرمی چیف نے 11مسیحی خواتین کی آبروریزی کی جس سے خوش ہوکر بھارتی حکومت نے انہیں فل ٹائم کرنل کے عہدے پر ترقی دی تھی۔بھارتی آرمی

چیف جنرل منوج مکونڈ نراوان مسلمانوں اور عیسائیوں سے دشمنی کے سبب مشہور ہیں۔کہا جارہا ہے کہ انتہا پسند مودی نے جان بوجھ کر منوج مکونڈ نراوان کا انتخاب کیا ، جس پر عیسائی خواتین کے ساتھ عصمت دری کا الزام ہے۔ آرمی چیف کو مودی بھارت میں خون ریزی کےلئے استعمال کرتے ہوئے گجرات کا واقعہ دوبارہ دہرا سکتا ہے۔ آرمی چیف جنرل منوج کو مودی نے بھارت میںمذہبی صہیونیت کو فروغ دینے کے لئے مقرر کیا ہے تاکہ اس کی گھناؤنی کمانڈ میں بھارت میں ایک بار پھر مزید خونریزی کرائی جا سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…