جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

بیرون ملک تعلیمی وظائف اعلی ایرانی عہدیداروں کی اولاد میں بانٹے جانے لگے

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایرانی پارلیمنٹ میں ایک ممتاز اصلاح پسند رکن محمود صادقی نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حکومت کے سینئر عہدیداروں کے 98 بچے اور بچیاں غیرقانونی طورپر اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک جامعات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق محمود صادقی کا کہنا تھا کہ جن طلبا نے غیر قانونی وظائف حاصل کیے ہیں انہیں عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ایرانی اصلاح پسند رہ نما نے

کہا کہ ریاست کی با اثر سیاسی شخصیات اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلوانے کے لیے مستحق طلبا کے حقوق سلب کررہے ہیں۔ یہ بھی کرپشن کی ایک بدترین شکل ہے۔ ایسے لوگ جو غیر قانونی طور پر بیرون ملک تعلیم کے حصول کی گرانٹ حاصل کرتیہیں۔ انہیں عدلیہ کو بھیجا گیا۔ ایسے لوگوں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف کا حق ان طلبا کا ہے جو محنت کرکے اعلی تعلیمی پوزیشن حاصل کرتے ہیں مگر یہاں سرکاری عہدیدار اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے اپنے نالائق بچوں کو بھی بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے اسکالر شپ دلواتے ہیں۔یہ اسکینڈل سابق صدر محمود احمدی نژاد جو سنہ 2005-2013 ایران کے صدر رہے کے دور کا ہے۔ اس وقت یہ انکشاف ہوا تھا کہ بہت سے سینیر عہدیداروں نے اپنے بچوں یا قریبی عزیزوں بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے وظائف دلوائے گئے ہیں۔مقامی میڈیا میں اس کی ایک قابل ذکر مثال احمدی نژاد کے وزیر تعلیم کامران دانشجو کی بیٹی ہے۔مقامی میڈیا نے بھی پارلیمنٹ کے 20 سے زیادہ ممبروں کے ناموں کا انکشاف کیا جن میں سے ایک پارلیمنٹ کی تعلیمی کمیٹی کا سربراہ تھا۔ ان ارکان نے تعلیمی وظائف حاصل کئے اور اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے بھیجا۔یہ قابل ذکر ہے کہ تہران حکومت کے رہ نماں اور عہدیداروں کے بیٹے اور رشتے دار کئی سالوں سے اپنی

دشمنی کے باوجود امریکی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ایرانی عہدے دار امریکی پرچم کو پامال کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتے ہیں۔اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن ایران میں زیر تعلیم اور کام کرنے والے ایرانی حکومت کے اہلکاروں کے بچوں کو ملک بدر کرنے پر غور کر رہا ہے۔محکمہ

خارجہ کے ایران کے لیے نمائندہ خصوصی برائن ہک نے بھی اعلان کیا ہے کہ انتظامیہ سنجیدگی سے ان رہ نماں کے بچوں کو ملک بدر کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو “مرگ بر امریکا” کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن ان کے بچوں کو امریکا میں تعلیم کے حصول کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ ایران کے اندر یہ لوگ امریکا کو’شیطان بزرگ’ یعنی سب سے بڑا شیطان قرار دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…