جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

قطر کا غیر ملکی کارکنوں کیلئے’’کفیل‘‘ کا نظام ختم کرنیکا اعلان

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

دوحہ(این این آئی) قطر کی وزارت محنت نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک غیر ملکی کارکنوں کیلئے سپانسرشپ سسٹم یعنی ’’کفیل‘‘ کے نظام کو مکمل طور پر ختم کر دے گا۔قطر کے وزیر محنت یوسف محمد العثمان فخرو نے کہا ہے کہ ان کا ملک 2022 ء سے کم سے کم اجرت کا نظام بھی شروع کرے گا۔واضح رہے کہ اسپناسر شپ کے قانون کے تحت غیر ملکی کارکنوں کو آجر کی پیشگی اجازت کے بغیر ملک چھوڑنے یا کام

تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے اور کارکنوں کے حقوق کا تفحظ کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں کفیل کے نظام پر تنقید کرتی رہی ہیں۔بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے ڈائریکٹر نے سپناسر شپ کے نظام کو جدید غلامی کے طور پر بیان کرتے ہوئے قطر کے حالیہ اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔قطر نے سنہ 2022 میں منعقد ہونے والے فٹبال کے عالمی کپ کی میزبانی جیتنے کے بعد سے ملک کے لیبر قوانین میں اصلاحات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تعمیراتی منصوبے شروع کیے ہیں، جن کے لیے غیر ملکی کارکنوں کو بڑی تعداد میں قطر لانے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر سپانسرشپ سسٹم پر مسلسل تنقید کرتی رہی ہیں۔ قطر کی حکومت نے گذشتہ سال بیشتر شعبوں میں آجر کی اجازت کے بغیر غیر ملکی کارکنوں پر ملک چھوڑنے پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔ لیکن اب اس نے سپناسرشپ سسٹم کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پابندی میں گھریلو ملازمین، سرکاری ملازمین اور ملک کی وقمی ایئر لائن، قطر ایئر ویز شامل ہیں۔ قطر کے وزیر محنت یوسف محمد العثمان فخرو نے کہا ہے کہ کابینہ نے کم سے کم اجرت طے کرنے اور کارکنوں کو ایک ملازمت سے دوسری ملازمت میں منتقلی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدام کی منظوری دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد قطر کو غیر ملکی سرمایہ کاری اور پیشہ وارانہ مہارت اور قابلیت کے لیے مزید پرکشش بنانا ہے۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے توقع ظاہر کی ہے کہ نئے قوانین جنوری 2020 سے نافذالعمل ہو جائیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…